سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ اسکیم اور صوبائی اعداد و شمار
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 46 ہزار افراد نے آفیشل آن لائن پورٹل کا استعمال کیا ہے جبکہ 5 ہزار عازمین نے "پاک حج موبائل ایپ" کے ذریعے اپنی رجسٹریشن مکمل کی ہے۔ ان میں سے 41 ہزار عازمین نے سرکاری اسکیم کے تحت سفرِ حج کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ 10 ہزار افراد نے پرائیویٹ حج کا انتخاب کیا ہے۔ اگر صنف اور عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اب تک رجسٹر ہونے والوں میں 30 ہزار مرد اور 21 ہزار خواتین شامل ہیں، جن میں 30 سے 48 سال کی عمر کے افراد کی تعداد سب سے نمایاں ہے۔
ملک بھر سے صوبائی سطح پر عازمین کی دلچسپی کا گراف بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ اب تک پنجاب سے سب سے زیادہ یعنی 24 ہزار عازمین رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سندھ سے 16 ہزار، خیبر پختونخوا سے 7 ہزار، دارالحکومت اسلام آباد سے 3 ہزار، بلوچستان سے 800، آزاد کشمیر سے 260 اور گلگت بلتستان سے 77 افراد نے اپنے ناموں کا اندراج کروایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ لازمی رجسٹریشن ڈرائیو بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی، جبکہ حج کے مجموعی اخراجات اور دیگر تفصیلی ضوابط کا اعلان دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: ڈیجیٹل پاکستان اور حج آپریشنز کی شفافیت
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ حج جیسے بڑے اور مقدس آپریشن کو ڈیجیٹلائز کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھا۔ ماضی میں عازمینِ حج کو فارم جمع کروانے، بینکوں کے چکر کاٹنے اور قرعہ اندازی کے عمل میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے بدانتظامی اور ایجنٹوں کی لوٹ مار کے راستے کھلتے تھے۔ نیشنل آئی ٹی بورڈ کی مدد سے پورٹل اور موبائل ایپ کا یہ جدید ترین مربوط نظام نہ صرف شفافیت (Transparency) کو یقینی بنائے گا، بلکہ دور دراز علاقوں کے غریب اور متوسط طبقے کے عازمین کو بھی یکساں اور آسان سہولت فراہم کرے گا۔ اب اصل امتحان دوسرے مرحلے میں اخراجات کو متوازن رکھنے اور سعودی عرب میں عازمین کو بہترین سفری و رہائشی سہولیات کی فراہمی کا ہو گا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل حج ریفارمز کا پسِ منظر:
حج آپریشنز کو جدید بنانے اور عازمین کی سہولت کے لیے حالیہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کی تاریخ پر ایک نظر:
- روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ (Road to Makkah): سعودی حکومت کے تعاون سے اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کے ایئرپورٹس پر ہی عازمین کی امیگریشن کا آغاز کیا گیا، جس سے جدہ اور مدینہ ایئرپورٹس پر گھنٹوں کا انتظار ختم ہو گیا۔
- پاک حج موبائل ایپ کا تعارف: عازمین کی لائیو لوکیشن ٹریکنگ، شکایات کے فوری ازالے اور مکہ و مدینہ میں رہائشی مانیٹرنگ کے لیے اس ایپ کو متعارف کروایا گیا، جو اب رجسٹریشن کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔
- بائیو میٹرک تصدیق اور پیپرلیس پالیسی: ماضی کے روایتی پاسپورٹ اور دفتری کاغذی کارروائی کو ختم کر کے تمام ڈیٹا کو سینٹرلائزڈ ڈیجیٹل بینک سے جوڑا گیا ہے تاکہ عازمین کا ڈیٹا محفوظ اور تصدیقی عمل تیز ترین ہو۔
حج 2027 کی یہ رجسٹریشن ڈرائیو ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو اس پاک سفر کی تمنا رکھتے ہیں۔ اب سب کی نظریں دوسرے مرحلے کی تفصیلات اور پیکیج کی قیمت پر لگی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment