صوبائی دارالحکومت کراچی کے مختلف علاقوں میں چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثات نے ایک بار پھر کئی گھروں میں کہرام مچا دیا ہے۔ کورنگی، گزری اور گارڈن کے علاقوں میں تیز رفتار گاڑیوں اور ٹریلرز کی ٹکر سے خاتون سمیت 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔ ریسکیو ذرائع اور چھیپا ایمبولینس سروس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو فوری طور پر جناح اور سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک خاتون کی شناخت طاہرہ غورہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: بے لگام ٹریفک اور انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی
ان پے در پے حادثات پر بنیادی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ کراچی کی سڑکیں اب شہریوں کے لیے موت کی گزرگاہیں بن چکی ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا اور پنجاب چورنگی انڈر پاس جیسے مصروف ترین مقامات پر ہیوی ٹریفک، تیز رفتار ٹریلرز اور نامعلوم گاڑیوں کا دندناتے پھرنا ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے۔ جب تک تیز رفتاری پر قابو پانے کے لیے اسپیڈ کیمرے، مؤثر چالان اور رات کے وقت ہیوی گاڑیاں چلانے کے قوانین پر سختی سے عمل نہیں کروایا جائے گا، معصوم راہگیر اور موٹرسائیکل سوار یوں ہی اپنی جانیں گنواتے رہیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی روایتی سستی اور "صرف بیانات" دینے کی پالیسی اصل مجرم ہے۔
کراچی کے ٹریفک مائنڈ سیٹ اور قوانین کا پسِ منظر:
کراچی میں سڑکوں کے غیر محفوظ ہونے اور حادثات میں اضافے کا ایک مخصوس تاریخی اور انتظامی پسِ منظر ہے:
- ہیوی ٹریفک کا داخلہ اور عدالتی احکامات: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماضی میں کراچی کی حدود میں دن کے وقت ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی، لیکن اس حکم نامے پر تھانہ کلچر اور بھتہ خوری کی وجہ سے کبھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
- موٹرسائیکل سواروں کا عدم تحفظ: کراچی میں سالانہ حادثات کا شکار ہونے والوں میں 70 فیصد سے زائد تعداد موٹرسائیکل سواروں اور راہگیروں کی ہوتی ہے، جن کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر کوئی علیحدہ ٹریک یا سیفٹی لائنز موجود نہیں ہیں۔
- انڈسٹریل ایریاز کا انفراسٹرکچر: کورنگی اور قائد آباد جیسے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کی ابتر صورتحال، اسٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی اور نامعلوم گاڑیوں کی ہٹ اینڈ رن (Hit and Run) کی وارداتیں ٹریفک مینجمنٹ کا سب سے بڑا کینسر بن چکی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت اور محکمہ ٹریفک صرف فائلوں کو رنگنے اور معائنے کے دعوے کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو بدلے اور تیز رفتار درندوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑ کر شہریوں کو جینے کا بنیادی حق فراہم کرے۔

Comments
Post a Comment