عبدالعلیم خان سے ملاقات اور ن لیگ کو بڑا سیاسی جھٹکا
تفصیلات کے مطابق، گلگت بلتستان اسمبلی کے چار نو منتخب آزاد ارکان نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے چیئرمین عبدالعلیم خان سے خصوصی ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ آئی پی پی کا حصہ بننے والوں میں گھانچے کے حلقوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی محمد انور اور ڈاکٹر اسد شفیق شامل ہیں، جب کہ حلقہ ون دیامر سے کامیاب ہونے والے دل پذیر خان اور غذر سے فتح حاصل کرنے والے آزاد امیدوار بھی اب آئی پی پی کا پرچم تھام چکے ہیں۔
اس شمولیت کا سب سے دلچسپ اور بڑا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے حلقہ جی بی اے 23 اور 24 سے جیتنے والے آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) کی باقاعدہ حمایت حاصل تھی۔ ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کا یوں اچانک آئی پی پی میں چلے جانا مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات کے بعد پہلے ہی واضح طور پر گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: وفاق کا اثر اور آزاد ارکان کی روایت
گلگت بلتستان کی سیاست کا اگر گہرا تجزیہ کیا جائے، تو یہاں ہمیشہ سے ایک خاص روایت چلی آ رہی ہے کہ جو جماعت اسلام آباد (وفاق) میں حکومت میں ہوتی ہے، گلگت بلتستان کے آزاد امیدوار اور ووٹرز اسی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اگرچہ سادہ اکثریت کے ساتھ سرفہرست جماعت بن کر ابھری ہے اور اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے، لیکن آئی پی پی کی اس اچانک انٹری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی کابینہ اور مخصوص نشستوں کی تقسیم میں اب آئی پی پی ایک اہم "کنگ میکر" (Kingmaker) کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات اور حکومت سازی کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
خطے کے سیاسی مزاج اور ماضی کے انتخابی ریکارڈ پر نظر ڈالنا اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے:
- 2009 کے انتخابات: جب مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، تو گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی نے کلین سوائپ کیا اور سید مہدی شاہ خطے کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے۔
- 2015 کے انتخابات: وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے کے بعد گلگت بلتستان کا سیاسی رخ بدلا اور ن لیگ نے بھاری اکثریت حاصل کر کے حافظ حفیظ الرحمن کو وزیراعلیٰ بنایا۔
- 2020 کے انتخابات: تحریکِ انصاف (PTI) نے مرکز میں حکومت ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں میدان مارا اور خالد خورشید وزیرِ اعلیٰ بنے، جس سے یہ سیاسی پیٹرن واضح ہوتا ہے کہ یہاں کی سیاست وفاق کے فیصلوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
- آزاد امیدواروں کی اہمیت: گلگت بلتستان کی تاریخ میں آزاد امیدوار ہمیشہ حکومت سازی کی چابی ثابت ہوتے رہے ہیں، جو الیکشن جیتنے کے بعد کسی نہ کسی بڑی پارلیمانی جماعت کا حصہ بن کر حکومت کا پلڑا بھاری کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے لیے اب بھی میدان کھلا ہے، لیکن ن لیگ کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے اور آئی پی پی کے اس نئے سرپرائز دھڑے نے گلگت بلتستان کی سیاست کو اگلے پانچ سالوں کے لیے انتہائی سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عبدالعلیم خان کی پارٹی اس خطے کی نئی حکومت میں کتنی وزارتیں سمیٹنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Comments
Post a Comment