سرپرائز انٹری! گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے بیچ آئی پی پی کا بڑا دھماکہ

Split image of IPP Chairman Aleem Khan and the scenic Gilgit-Baltistan assembly representation representing government formation
گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد خطے میں حکومت سازی کا معاملہ ایک سنسنی خیز اور غیر متوقع مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) اکثریتی جماعت بن کر اپنا وزیرِ اعلیٰ لانے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہی تھی، وہاں اچانک استحکامِ پاکستان پارٹی (IPP) نے ایک بڑا سیاسی سرپرائز دے دیا ہے۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے 7 آزاد امیدواروں میں سے 4 ارکان نے وفاق میں متحرک آئی پی پی کا حصہ بننے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس نے گلگت بلتستان کے سیاسی جوڑ توڑ کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

عبدالعلیم خان سے ملاقات اور ن لیگ کو بڑا سیاسی جھٹکا

تفصیلات کے مطابق، گلگت بلتستان اسمبلی کے چار نو منتخب آزاد ارکان نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے چیئرمین عبدالعلیم خان سے خصوصی ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ آئی پی پی کا حصہ بننے والوں میں گھانچے کے حلقوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی محمد انور اور ڈاکٹر اسد شفیق شامل ہیں، جب کہ حلقہ ون دیامر سے کامیاب ہونے والے دل پذیر خان اور غذر سے فتح حاصل کرنے والے آزاد امیدوار بھی اب آئی پی پی کا پرچم تھام چکے ہیں۔

اس شمولیت کا سب سے دلچسپ اور بڑا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے حلقہ جی بی اے 23 اور 24 سے جیتنے والے آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) کی باقاعدہ حمایت حاصل تھی۔ ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کا یوں اچانک آئی پی پی میں چلے جانا مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات کے بعد پہلے ہی واضح طور پر گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: وفاق کا اثر اور آزاد ارکان کی روایت

گلگت بلتستان کی سیاست کا اگر گہرا تجزیہ کیا جائے، تو یہاں ہمیشہ سے ایک خاص روایت چلی آ رہی ہے کہ جو جماعت اسلام آباد (وفاق) میں حکومت میں ہوتی ہے، گلگت بلتستان کے آزاد امیدوار اور ووٹرز اسی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اگرچہ سادہ اکثریت کے ساتھ سرفہرست جماعت بن کر ابھری ہے اور اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے، لیکن آئی پی پی کی اس اچانک انٹری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی کابینہ اور مخصوص نشستوں کی تقسیم میں اب آئی پی پی ایک اہم "کنگ میکر" (Kingmaker) کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات اور حکومت سازی کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

خطے کے سیاسی مزاج اور ماضی کے انتخابی ریکارڈ پر نظر ڈالنا اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے:

  • 2009 کے انتخابات: جب مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، تو گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی نے کلین سوائپ کیا اور سید مہدی شاہ خطے کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے۔
  • 2015 کے انتخابات: وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے کے بعد گلگت بلتستان کا سیاسی رخ بدلا اور ن لیگ نے بھاری اکثریت حاصل کر کے حافظ حفیظ الرحمن کو وزیراعلیٰ بنایا۔
  • 2020 کے انتخابات: تحریکِ انصاف (PTI) نے مرکز میں حکومت ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں میدان مارا اور خالد خورشید وزیرِ اعلیٰ بنے، جس سے یہ سیاسی پیٹرن واضح ہوتا ہے کہ یہاں کی سیاست وفاق کے فیصلوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
  • آزاد امیدواروں کی اہمیت: گلگت بلتستان کی تاریخ میں آزاد امیدوار ہمیشہ حکومت سازی کی چابی ثابت ہوتے رہے ہیں، جو الیکشن جیتنے کے بعد کسی نہ کسی بڑی پارلیمانی جماعت کا حصہ بن کر حکومت کا پلڑا بھاری کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے لیے اب بھی میدان کھلا ہے، لیکن ن لیگ کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے اور آئی پی پی کے اس نئے سرپرائز دھڑے نے گلگت بلتستان کی سیاست کو اگلے پانچ سالوں کے لیے انتہائی سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عبدالعلیم خان کی پارٹی اس خطے کی نئی حکومت میں کتنی وزارتیں سمیٹنے میں کامیاب ہوتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Political Story in English

Political Twist: Four Newly Elected Independent G-B Lawmakers Join IPP


GILGIT: Government formation in Gilgit-Baltistan has taken an intriguing turn as four out of seven independent lawmakers who won the recent elections have officially joined the Istehkam-e-Pakistan Party (IPP) following a meeting with party chairman Abdul Aleem Khan in Lahore.

The Strategic Shift as PPP Leads the House

The newly joined members include Mohammad Anwar and Dr. Asad Shafiq from Ghanche, Dilpazir Khan from Diamer, and an independent winner from Ghizer. Out of these, two candidates were heavily backed by the PML-N, making their transition to IPP a significant political blow to the League. While the Pakistan Peoples Party (PPP) remains the largest single party with a simple majority and is poised to bring its own Chief Minister, the sudden entry of IPP alters the power dynamics as PML-N decides to sit on the opposition benches.

Comments