سیاسی تنازعات، سابق صدور کے پیغامات اور قوم پرستی کا طوفان
اس تاریخی موقع پر بھی امریکی سیاست کی اندرونی پھوٹ واضح نظر آئی۔ ناقدین نے صدر ٹرمپ پر کانگریس کے آفیشل دو فریقی پروگرام "امریکہ 250" کے متوازی اپنا ذاتی پروگرام چلا کر اس دن کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔ دوسری طرف، امریکہ کے چاروں بقیدِ حیات سابق صدور نے قوم کے نام اہم پیغامات جاری کیے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ برابری کا خواب ابھی نامکمل ہے جسے ہر نسل کو پورا کرنا ہوگا، باراک اوباما نے بنیادی جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے پر زور دیا، جارج ڈبلیو بش نے شہریوں کو عوامی زندگی میں متحرک رہنے کی تلقین کی، جبکہ بل کلنٹن نے اعتراف کیا کہ یہ سالگرہ شدید سیاسی تقسیم اور جمہوری اداروں پر جاری بحث کے دوران آئی ہے۔ اسی دوران واشنگٹن میں ایک سفید فام قوم پرست گروپ "پیٹریاٹ فرنٹ" کے 400 ارکان نے مارچ کر کے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔
روایتی تقریبات کے ساتھ ساتھ، فلاڈیلفیا میں خصوصی تقاریب منعقد ہوئیں اور ریاست ورجینیا میں 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے 150 تارکینِ وطن کو امریکی شہریت دینے کی تاریخی تقریب بھی ہوئی۔ نیویارک میں روایتی ہاٹ ڈاگ کھانے کا مقابلہ بھی ہوا جس میں جوئے چیسٹ نٹ نے ایک بار پھر میدان مار لیا۔ تاہم، موسم نے اس جشن میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈالی۔ مشرقی امریکہ میں درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ (38 ڈگری سینٹی گریڈ) سے تجاوز کر گیا، جبکہ مشڈ ویسٹ سے نیو جرسی تک شدید ترین طوفان اور تیز ہواؤں کے باعث لاکھوں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی اور کئی ریاستوں میں پریڈز منسوخ کرنی پڑیں۔
تبصرہ و تجزیہ: اڑھائی سو سالہ سپر پاور اندرونی محاذ پر کمزور؟
ڈھائی سو سال مکمل کرنے کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت تو ہے، لیکن اندرونی طور پر وہ شدید نظریاتی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف قدامت پسند سوچ ہے جو قوم پرستی پر زور دے رہی ہے، تو دوسری طرف لبرل اور سابق قیادت ہے جو گرتی ہوئی جمہوری اقدار پر فکر مند ہے۔ آزادی کا یہ دن صرف ماضی کی کامیابیوں کا جشن نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے بکھرے ہوئے معاشرے کا آئینہ تھا جو اپنے حال سے نبردآزما ہے اور اپنے مستقبل کے راستے کا تعین کرنے کے لیے آپس میں ہی دست و گریبان ہے۔

Comments
Post a Comment