پاکستان کا بڑا معاشی معرکہ! وسطی ایشیائی ممالک کے لیے متبادل بحری راستے فعال، سالانہ 3 ارب ڈالر آمدن کا امکان

Cargo trucks and shipping containers representing regional transit trade at a Pakistani terminal
پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کو کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت سے پاکستان کے علاقائی ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز بننے کے امکانات انتہائی روشن ہو گئے ہیں۔ آذربائیجان کے معتبر میڈیا ادارے 'دی کیسپیئن پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق، ازبکستان نے پاکستان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اب افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے نئے تجارتی کوریڈورز کا باقاعدہ استعمال شروع کر دیا ہے، جو خطے کی تجارتی تاریخ میں ایک بڑا موڑ ہے۔

افغانستان بائی پاس: گبد ریمدان بارڈر سے ہزاروں ٹن کارگو کی ترسیل

رپورٹ کے مطابق، تاشقند نے پاک۔ایران سرحد پر واقع گبد۔ریمدان بارڈر کے ذریعے زرعی مشینری اور صنعتی خام مال کی ترسیل کا آغاز کر دیا ہے۔ اپریل 2026 میں فعال کی جانے والی اس نئی تجارتی راہداری نے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں اور عالمی مارکیٹ تک ایک محفوظ، اضافی اور متبادل رسائی فراہم کی ہے۔ اکتوبر 2025 میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے طورخم اور چمن بارڈر کی بندش کے بعد پاکستان نے یہ متبادل راستے متعارف کرائے تھے، جن کے ذریعے اب تک 14 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو کامیابی سے منتقل کیا جا چکا ہے، جو اس نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔

معاشی ماہرین اور لاجسٹکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ٹی آئی آر (TIR) نظام اور سنگل ونڈو کسٹمز پلیٹ فارم کے استعمال کو زبردست فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سی پیک فیز ٹو (CPEC Phase 2) کے تحت گوادر بندرگاہ کا علاقائی تجارت میں مرکزی کردار مزید مضبوط ہو کر سامنے آئے گا۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ تجارتی راہداری مستقل بنیادوں پر مکمل طور پر فعال رہتی ہے، تو پاکستان صرف وسطی ایشیائی ریاستوں کو ٹرانزٹ اور لاجسٹکس خدمات فراہم کر کے سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک کی خطیر آمدن حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

افغانستان کے راستے روایتی تجارتی گزرگاہوں میں بار بار آنے والے سیکیورٹی تعطل اور سیاسی اتار چڑھاؤ کے تناظر میں گبد۔ریمدان بارڈر کا متبادل روٹ فعال کرنا پاکستان کی ایک بہترین اسٹریٹیجک اور معاشی کامیابی ہے۔ ازبکستان کی طرف سے اس راستے کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ وسطی ایشیائی لینڈ لاکڈ (زمین سے گھرے) ممالک عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کو سب سے کم فاصلے اور لاگت والا راستہ سمجھتے ہیں۔ سالانہ 3 ارب ڈالر کی ممکنہ آمدن اور سی پیک فیز ٹو کا فروغ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور لاجسٹکس انڈسٹری کو مضبوط کرے گا، تاہم اس نیٹ ورک کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار پاک-ایران بارڈر پر کسٹمز کلیئرنس کی رفتار اور گوادر پورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل اپ گریڈیشن پر ہے۔


⬇️ Click to Read this Economic Story in English

Pakistan Activates Alternative Trade Routes for Central Asia, Eyeing $3 Billion Revenue


ISLAMABAD: Pakistan has successfully operationalized alternative transit routes connecting Central Asian States to global markets through Gwadar and Karachi ports. According to a report by Azerbaijan's 'The Caspian Post', Uzbekistan has started bypassing Afghanistan, utilizing the Gabd-Rimdan border corridor on the Pak-Iran border to transport industrial goods and agricultural machinery.

Bypassing Border Closures and Boosting CPEC Phase 2

The new corridor, activated in April 2026 following the prolonged closure of Torkham and Chaman borders due to security issues, has already handled over 14,000 metric tons of cargo. Economists highlight that this network will strengthen the role of Gwadar Port under CPEC Phase 2, potentially generating up to $3 billion annually for Pakistan in transit and logistics services.

Comments