15 سالہ مدت اور محض 1 فیصد شرحِ سود کی پرکشش پیشکش
ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے یہ بڑی آئل فنانسنگ سہولت 15 سال کی طویل مدت کے لیے مانگی ہے جس پر شرحِ سود محض 1 فیصد تجویز کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل طے پانے والی ایسی سہولیات پر سود کی شرح 6 فیصد تک ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے اس قرض کی واپسی شروع کرنے سے قبل 5 سال کا رعایتی دورانیہ (گریس پیریڈ) دینے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس اہم معاشی اقدام کے حوالے سے پاکستانی وزراء کی سعودی حکام کے ساتھ حالیہ دنوں میں تفصیلی بیٹھک بھی ہو چکی ہے جس میں دوطرفہ اقتصادی اور توانائی تعاون بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب 2019 سے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر تیل فراہم کر کے معاشی مدد فراہم کرتا آ رہا ہے اور اس کے پاکستان میں مجموعی نقد ڈپازٹس 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان کے معاشی مینیجرز کا ماننا ہے کہ اگر چین اور دیگر دوست ممالک سے حاصل کردہ توانائی منصوبوں کے قرضوں کی ری شیڈولنگ کا کوئی قابلِ عمل حل نکل آیا، تو اگلے سال ستمبر میں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد ملک کو کسی نئے آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہیں پڑے گی اور معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے گی۔
تبصرہ و تجزیہ
سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کا یہ رعایتی پیکیج اگر منظور ہو جاتا ہے تو یہ پاکستانی معیشت کے لیے آکسیجن کا کام کرے گا۔ 15 سالہ مدت اور محض 1 فیصد شرحِ سود کی شرائط انتہائی نرم اور غیر معمولی ہیں، جو پاکستان کے ڈالر ذخائر پر دباؤ کو فوری طور پر کم کر دیں گی۔ پاکستان سالانہ تقریباً 14 سے 15 ارب ڈالر کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے، ایسے میں اس پیکیج سے حاصل ہونے والا ریلیف حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے اور معاشی استحکام لانے کے لیے بڑا بریکنگ سپیس فراہم کرے گا۔ مزید برآں، دوست ممالک کے تعاون کی بدولت آئی ایم ایف کے چنگل سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کا حکومتی خواب بھی شرمندہ تعبیر ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

Comments
Post a Comment