فٹ بال ورلڈ کپ جنون! برطانوی حکومت کا رات گئے تک پب کھولنے کا فیصلہ، پولیس شدید سیخ پا

British police officers patrolling outside a traditional English pub lit up at night representing security measures
برطانیہ میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلے جہاں شائقین کے لیے خوشیاں لا رہے ہیں، وہاں برطانوی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے میکسیکو کے خلاف انگلینڈ کے اہم ترین ناک آؤٹ میچ کے لیے ملک بھر کے پب (شراب خانوں) کو پیر کی صبح 5 بجے تک کھلا رکھنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔ حکومت کے اس اچانک فیصلے پر برطانوی پولیس نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس دیر آیند فیصلے سے امن و امان برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

برطانوی پولیس کے تحفظات اور جرائم بڑھنے کا خطرہ

نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو انگلینڈ کے میچ کے اوقات کار کا بہت پہلے سے علم تھا، لیکن اس کے باوجود آخری لمحات میں پب کھلے رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے پولیس فورس کو دوسرے اہم فرائض سے ہٹا کر اضافی ڈیوٹیاں دینا پڑیں گی اور افسران کو طویل گھنٹوں تک سڑکوں پر رہنا پڑے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ماضی کے ٹورنامنٹس کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جب بھی ایسے ہائی وولٹیج ناک آؤٹ میچز رات گئے تک چلتے ہیں، تو کثرت سے شراب نوشی کے باعث سڑکوں پر لڑائی جھگڑے، پرتشدد واقعات اور گھریلو تشدد (Domestic Abuse) کے کیسز میں بدترین اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

یاد رہے کہ انگلینڈ اور میکسیکو کا یہ اہم میچ برطانوی وقت کے مطابق رات 1 بجے شروع ہوگا جو کم از کم صبح 3 بجے تک جاری رہے گا، اور پینلٹی شوٹ آؤٹ کی صورت میں یہ مزید لیٹ ہو سکتا ہے۔ جہاں پولیس اس پر پریشان ہے، وہاں بزنس اور ہاسپیٹلیٹی سیکٹر نے اس فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ گرین کنگ اور مارسٹرز جیسے بڑے پب چینز کے ایک ہزار سے زائد پب رات بھر عازمینِ فٹ بال کے لیے کھلے رہیں گے، جس سے کروڑوں ڈالرز کے کاروبار کی امید ہے۔ دوسری طرف، ٹریڈ یونینز اور تعلیمی ماہرین نے بھی پیر کی صبح ملازمین اور اسکول کے بچوں کے لیے اوقاتِ کار میں نرمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: پبلک سیفٹی بمقابلہ کاروباری منافع

مغربی ممالک میں اسپورٹس اور خاص طور پر فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک اربوں ڈالرز کی انڈسٹری بن چکا ہے۔ برطانوی حکومت نے سیکیورٹی اداروں کے تحفظات کو پسِ پشت ڈال کر کاروباری طبقے اور پبلک سینٹیمنٹ کو خوش کرنے کے لیے قانون میں ریکارڈ تیزی سے تبدیلی کی۔ لیکن اس کا دوسرا تاریک پہلو یہ ہے کہ شراب نوشی کے نتیجے میں ہونے والی ہلڑ بازی اور خاندانی تشدد کا سارا نزلہ پولیس اور ہیلتھ سسٹم پر گرتا ہے۔ حکومت کا یہ شارٹ نوٹس پر کیا گیا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات سیاسی مقبولیت اور معاشی فائدے کے لیے عوامی تحفظ اور لاء نافذ کرنے والے اداروں پر اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جو کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں ہائی پروفائل میچز اور پبلک الرٹس کی ہسٹری:

برطانیہ میں فٹ بال میچز کے دوران پبلک آرڈر اور سیکیورٹی چیلنجز کا پسِ منظر درج ذیل ہے:

  • یورو فائنل ہنگامے (2021): ویمبلے اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میچ کے دوران ہزاروں بن بلائے اور نشے میں دھت شائقین نے سیکیورٹی توڑ کر اسٹیڈیم پر دھوا بولا تھا، جسے برطانوی تاریخ کا ایک بڑا سیکیورٹی فیلر مانا جاتا ہے۔
  • گھریلو تشدد کی لائیو کڑی: برطانوی یونیورسٹیوں کی ریسرچ کے مطابق جب بھی انگلینڈ کی ٹیم کوئی بڑا میچ ہارتی ہے، تو ملک بھر میں خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں 38 فیصد تک ریکارڈ اضافہ دیکھا جاتا ہے، جس کی بڑی وجہ الکوحل ہے۔
  • موٹرنگ اور ٹریفک الرٹس: برطانوی ٹریفک آرگنائزیشن (RAC) ہمیشہ ایسے رات گئے میچوں کے بعد ہائی ویز پر ہائی الرٹ جاری کرتی ہے، کیونکہ نیند کی کمی اور ڈی ہائیڈریشن کے باعث صبح کے وقت بدترین ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انگلینڈ اور میکسیکو کا یہ معرکہ جہاں میدان کے اندر ایک بڑی جنگ ہوگا، وہاں پیر کی صبح برطانوی سڑکوں پر پولیس کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ثابت ہونے والا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اتنی لمبی رات بغیر کسی بڑے ہنگامے کے کیسے گزرتی ہے۔


⬇️ Click to Read this World Cup Story in English

World Cup Drama: UK Police Slam Government Over Late-Night Pub Extension for England Match


LONDON: The National Police Chiefs' Council (NPCC) has openly criticized the British government's late announcement allowing pubs to remain open until 05:00 BST on Monday for England's crucial World Cup clash against Mexico. Policing leads stated that the last-minute directive forces officers away from core duties into working extreme shifts despite the tournament schedule being known for months.

Concerns Over Alcohol-Fueled Domestic Abuse and Violence

Law enforcement authorities warned that late-night knockout fixtures historically trigger sharp increases in violent crimes and domestic abuse due to high alcohol consumption. While PM Sir Keir Starmer's fast-tracked legal amendment has been heavily celebrated by the multi-million-dollar hospitality sector, unions and education leaders are now demanding flexible starting hours for workers and school children on Monday morning.

Comments