پاکستان کی معروف اداکارہ زارا نور عباس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر کام کرنے والی ماؤں (Working Mothers) کو درپیش چیلنجز اور خاص طور پر بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے جسمانی وزن پر ہونے والی تنقید یعنی 'باڈی شیمنگ' کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
زارا نور عباس، جو حال ہی میں دوسری بار ماں بنی ہیں، نے انکشاف کیا کہ معاشرہ اور شوبز انڈسٹری خواتین سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ماں بننے کے فوراً بعد جادوئی طور پر دوبارہ ویسی ہی نظر آئیں جیسی وہ پہلے تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے جسم کو ایک 'مشین' کی طرح سمجھا جاتا ہے جس سے ہر وقت پرفیکٹ نظر آنے کی امید کی جاتی ہے۔
اداکارہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا کہ بچے کی پیدائش ایک قدرتی عمل ہے جس کے بعد جسم میں تبدیلیاں آنا فطری ہے۔
کام کرنے والی ماؤں کو اس بات پر 'گلٹ' (احساسِ جرم) محسوس کرایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر اور بچے کے درمیان توازن کیسے رکھیں گی۔انہوں نے مداحوں اور انڈسٹری کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کو ان کی ظاہری شکل کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور ہمت سے پہچانیں۔
زارا نور کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین صارفین کا کہنا ہے کہ زارا نے ان تمام ماؤں کی ترجمانی کی ہے جو خاموشی سے اس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ شوبز کی دیگر شخصیات نے بھی زارا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ 'خوبصورتی کے فرسودہ معیار' کو بدلا جائے۔
زارا نور عباس کا یہ جرات مندانہ بیان نہ صرف شوبز بلکہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کے لیے ایک حوصلہ ہے جو ماں بننے کے بعد اپنے کیریئر میں واپسی کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment