واشنگٹن: عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ایرون شروڈنگر کے رنگوں سے متعلق صدیوں پرانے نظریے میں ایک بڑی ریاضیاتی غلطی کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جس کے بعد اب انسانی آنکھ اور دماغ کے رنگوں کو پہچاننے کے عمل کا نیا اور درست نقشہ تیار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، 1920 کی دہائی میں کوانٹم فزکس کے بانیوں میں سے ایک، ایرون شروڈنگر نے دعویٰ کیا تھا کہ انسانی دماغ رنگوں کے درمیان فرق کو ایک سیدھی لکیر یعنی 'یوکلیڈین جیومیٹری' کے اصول پر پرکھتا ہے۔ اس نظریے کو گزشتہ ایک صدی سے اسکرین ٹیکنالوجی اور گرافکس کی بنیاد سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم جدید تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی بصارت کا نظام اس قدر سادہ نہیں ہے۔
جدید تحقیق کا خلاصہ
لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ رنگوں کے درمیان فرق کو محسوس کرنے کے لیے ہمارا دماغ 'سیدھے راستے' کے بجائے ایک 'خمیدہ' یا مڑے ہوئے نظام (ریمنین جیومیٹری) کا استعمال کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب دو رنگوں کے درمیان فرق بہت زیادہ بڑھ جائے، تو انسانی دماغ اسے اس شدت سے محسوس نہیں کرتا جیسا کہ شروڈنگر کے ریاضیاتی ماڈل میں بتایا گیا تھا۔ اس عمل کو سائنسدانوں نے 'گھٹتے ہوئے منافع' کے اصول سے تشبیہ دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ رنگوں کا فاصلہ بڑھنے سے دماغ کی حساسیت کم ہوتی جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی پر اثرات
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس 100 سالہ غلطی کی درستی سے مستقبل کی ٹیکنالوجی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔ اب ٹی وی، اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر مانیٹرز کی اسکرینز کو انسانی آنکھ کے اصل ادراک کے مطابق ڈیزائن کیا جا سکے گا، جس سے رنگوں کی عکاسی زیادہ حقیقی اور قدرتی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ سائنسی آلات اور کیمروں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شروڈنگر جیسے عظیم ذہن کے نظریے کو چیلنج کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سائنس میں حتمی کچھ نہیں ہوتا اور مسلسل جستجو ہی نئی حقیقتوں تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment