مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات اور پاک، ایران اور قطر کے درمیان ممکنہ تزویراتی معاہدے کے حوالے سے عالمی سفارتی میدان میں ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ آ گیا ہے۔ ایک طرف ذرائع کی جانب سے ایک مبینہ 10 نکاتی خفیہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خطے میں جنگ بندی اور بڑے جیو پولیٹیکل فیصلوں کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، تو دوسری طرف امریکی صدارتی محل (وائٹ ہاؤس) نے اس کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے اس دستاویز کو یکسر فرضی اور جھوٹا قرار دے دیا ہے۔
مبینہ 10 نکات کا سفارتی دعویٰ کیا ہے؟
سفارتی حلقوں میں گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، اس مبینہ معاہدے کے ابتدائی حصوں میں پاکستان، ایران اور قطر کے درمیان سلامتی، معاشی شراکت داری اور آبنائے ہرمز سمیت خلیج کے خطے میں بحری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم نکات شامل ہیں۔ دعووں میں کہا جا رہا ہے کہ اس یادداشت کا مقصد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو متوازن کرنا اور ایران پر عائد حالیہ پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ بلاک قائم کرنا ہے۔ ان افواہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے، جس کے بعد واشنگٹن کو باضابطہ جواب دینا پڑا۔
وائٹ ہاؤس کی دستاویزی اور سخت تردید
امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان رپورٹس کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور میڈیا پر گردش کرنے والے یہ "10 نکات" مکمل طور پر من گھڑت ہیں اور سفارتی سطح پر ایسی کسی بھی دستاویزی یادداشت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ امریکہ خطے کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ایسے خفیہ گٹھ جوڑ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جو بین الاقوامی قوانین یا خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے خفیہ معائدوں کے دعوے اور پھر سپر پاور کی جانب سے فوری تردید ظاہر کرتی ہے کہ پسِ پردہ سفارتی جنگ اس وقت کتنی سنگین ہو چکی ہے۔ پاکستان اور قطر کا نام ایران کے ساتھ جوڑے جانے سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئے بلاکس بننے کی افواہوں کو مزید ہوا ملی ہے۔
ایک طرف 10 نکات کی گونج اور دوسری طرف واشنگٹن کی کھلی تردید نے عالمی میڈیا کو اس وقت شدید تجسس اور جیو پولیٹیکل تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔

Comments
Post a Comment