اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت اور جنوبی علاقوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے 14 فیصد رقبے کو خالی کرنے کے سب سے بڑے حکم کے فوری بعد کیے گئے، جس نے ملک میں ایک بار پھر شدید خوف و ہراس اور نقل مکانی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔
عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور صور میں تباہی
اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زمینی آپریشن کو وسعت دینے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد لبنان کے بڑے شہر 'صور' (Tyre) کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور فضا میں دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق، نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کی گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے زہرانی دریا کے جنوبی علاقوں میں واقع تقریباً 300 قصبوں اور دیہاتوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر شمال کی طرف منتقل ہونے کی وارننگ دی ہے، جس کی وجہ سے پناہ گاہوں میں گنجائش ختم ہو گئی ہے اور لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے آگئے ہیں۔
حزب اللہ کی مزاحمت اور انسانی بحران
دوسری جانب، حزب اللہ نے دعوا کیا ہے کہ اس کے مجاہدین نے سرحدی علاقے 'زوطر الشرقیہ' میں اسرائیلی افواج کے ساتھ آمنے سامنے کی شدید لڑائی کی ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں صورتحال انتہائی خطرناک اور تباہ کن نہج پر پہنچ چکی ہے، جہاں مسلسل بمباری کے باعث ریسکیو ٹیموں کے لیے بھی زخمیوں تک پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
ان تازہ حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Israel Strikes Beirut and Southern Lebanon After Massive Evacuation Orders
Israeli forces have launched heavy airstrikes across the Lebanese capital of Beirut and the southern port city of Tyre, leaving at least 11 people dead. The calculated military offensive followed the largest single evacuation order since the ceasefire took effect, forcing thousands of civilians to flee further north under extreme duress.
Ceasefire Violations and Humanitarian Shock
Both Israel and Hezbollah have accused each other of violating the temporary truce framework. The recent escalation intensified after Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu announced an expansion of ground operations. Following the directives, a targeted drone strike on a fleeing family vehicle killed six civilians, including children, while local rescue shelters in nearby Sidon rapidly reached full capacity.
Intense Clashes and Diplomatic Turmoil
Hezbollah verified that its fighters engaged in close-range combat with advancing Israeli troops in Zawtar al-Sharqiyeh. International humanitarian organizations, including the ICRC, warned that the compounding displacement and structural damage are pushing the region toward a perilous tipping point, endangering ongoing diplomatic peace negotiations.
The intense military escalation threatens to derail broader regional diplomatic efforts aimed at securing a sustainable ceasefire agreement.
Comments
Post a Comment