ایران جنگ کا اثر؛ امریکہ نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فراہمی روک دی

us-taiwan-arms-pause
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے عالمی اثرات اب دوسرے خطوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکہ نے تائیوان کو چودہ ارب ڈالر کے جدید ہتھیاروں کی فروخت عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان ہتھیاروں اور گولہ بارود کو ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں استعمال کیا جا سکے۔

آپریشن 'ایپک فیوری' اور امریکی بحریہ کا اعتراف

امریکی قائم مقام سینیٹری آف نیوی ہنگ کاؤ نے جمعرات کو سینیٹ کی سماعت کے دوران اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تائیوان کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی میں یہ تعطل آپریشن 'ایپک فیوری' (Epic Fury) کے لیے گولہ بارود کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آپریشن 'ایپک فیوری' ایران میں جاری امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کا خفیہ کوڈ نیم ہے۔ ہنگ کاؤ کا کہنا تھا کہ فی الحال ترجیح اپنے فوجی ذخائر کو برقرار رکھنا ہے، اور انتظامیہ جب مناسب سمجھے گی، تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ دوسری جانب تائیوان کے صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں فی الحال ہتھیاروں کی فروخت میں کسی تبدیلی کے بارے میں باقاعدہ آگاہ نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ کی 'سفارتی چال' اور چین کے ساتھ مذاکرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیل کی حتمی منظوری دینے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی بیان نہیں دیا ہے۔ انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کے ہتھیار بیجنگ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بہترین 'بارگیننگ چپ' (مذاکراتی مہرہ) ہیں۔ حال ہی میں بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی ٹرمپ نے تائیوان کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی تھی، جہاں چینی صدر نے واضح کیا تھا کہ تائیوان دونوں ممالک کے درمیان سب سے حساس اور اہم ترین مسئلہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ اس ڈیل کے سلسلے میں تائیوان کے صدر لائی چنگ تے سے براہِ راست فون پر بات کریں گے، جو کہ دہائیوں پرانی سفارتی روایات کے برعکس اقدام ہوگا اور اس سے چین کے مزید غصے میں آنے کا امکان ہے۔

تائیوان اسٹریٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ہمیشہ سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کی بڑی وجہ رہی ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس پر ملٹری فورس کے استعمال کو بھی مسترد نہیں کرتا۔ گزشتہ سال دسمبر میں جب امریکہ نے تائیوان کے لیے گیارہ ارب ڈالر کے تاریخی ہتھیاروں کے پیکیج کی منظوری دی تھی، تو چینی وزارتِ خارجہ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے انتباہ کیا تھا کہ یہ اقدامات تائیوان اسٹریٹ کو ایک خطرناک اور پرتشدد صورتحال کی طرف دھکیل دیں گے۔ تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے امریکی ہتھیار ناگزیر ہیں، یہی وجہ ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے جواب میں تائیوان نے اپنے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کر رکھا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ تائیوان کے دفاع کو عارضی طور پر کمزور کر سکتا ہے، جس کا فائدہ چین اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

US Pauses $14bn Weapons Sale to Taiwan Due to Iran War


The United States is temporarily pausing a massive $14 billion arms sale to Taiwan to ensure it maintains sufficient munitions for the ongoing conflict in Iran. The decision highlights how the conflict in the Middle East is shifting military priorities across different global theaters.

Operation 'Epic Fury' and Strategic Munitions Pauses

US acting Navy Secretary Hung Cao confirmed the pause during a Senate hearing on Thursday. He explained that the suspension of the foreign military sales package was required to guarantee adequate stockpiles for Operation Epic Fury—the official code name for the joint US-Israel military operation currently taking place in Iran. Meanwhile, a spokesperson for Taiwan's presidential office noted on Friday that they had not yet received any formal updates regarding adjustments to the arms sale from Washington.

Trump's 'Negotiating Chip' with Beijing

US President Donald Trump has held back from giving final approval to the defense package. In a recent interview with Fox News, Trump characterized the weapons sale as a "very good negotiating chip" with China. The development follows a high-profile presidential summit in Beijing where Chinese President Xi Jinping firmly reminded Trump that Taiwan remains the single most critical and sensitive issue governing US-China relations. Trump also noted plans to speak directly with Taiwanese leader Lai Ching-te, a move that would break decades of strict diplomatic protocol and likely infuriate Beijing.

Rising Tensions Across the Taiwan Strait

Washington's defense deals with Taiwan have long been a source of diplomatic friction with Beijing, which views the self-governed island as its sovereign territory. Last December, when the US approved an $11 billion defense package for the island, China's foreign ministry strongly condemned the deal, warning that it would accelerate dangerous escalations across the Taiwan Strait. Conversely, Taiwanese President Lai Ching-te has consistently defended the purchases, describing American military hardware as a fundamental factor in maintaining regional stability against growing Chinese military pressure.

Geopolitical analysts suggest that this temporary pause could create a strategic vulnerability in East Asia, as Washington balances its military commitments between two highly volatile fronts.

Comments