مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود حج زائرین کی تعداد میں اضافہ؛ 15 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ گئے

haj-pilgrims-saudi-arabia
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور فضائی سفر کی مشکلات کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے والہانہ انداز میں سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق اب تک سلطنت سے باہر سے آنے والے بین الاقوامی زائرین کی تعداد گزشتہ سال 2025 کے مقابلے میں بھی تجاوز کر چکی ہے، جو کہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔

جنگی حالات اور فضائی سفری مشکلات

رواں سال فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ تہران کی جانب سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں مختلف اہداف پر کیے جانے والے جوابی حملوں کے باعث پورے خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی، پروازیں منسوخ ہوئیں اور فضائی سفر کے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ان تمام سفری اور معاشی مشکلات کے باوجود عازمینِ حج کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔

متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین جیسے بڑے خلیجی ممالک کی ایئر لائنز نے کئی ہفتوں کی فضائی حدود کی بندش کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اپنی پروازوں کا سلسلہ بحال کیا تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو وقت پر پہنچایا جا سکے۔ عازمین کی مسلسل آمد نے تمام تر سیکیورٹی خدشات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار اور تیاریاں

سعودی عرب کی حج پاسپورٹ فورسز کے کمانڈر صالح المربع نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ "اب تک بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی کل تعداد 15 لاکھ 18 ہزار 153 (1,518,153) تک پہنچ چکی ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ حج کے باقاعدہ مناسک پیر سے شروع ہو رہے ہیں، اس لیے اگلے دو روز میں زائرین کی یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

اگر گزشتہ سال کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو 2025 میں حج کرنے والے کل زائرین کی تعداد 16 لاکھ 73 ہزار 320 تھی، جس میں بیرون ملک سے آنے والے عازمین 15 لاکھ 6 ہزار 576 تھے۔ رواں سال تمام تر نامساعد حالات کے باوجود صرف بیرونی زائرین کی تعداد ہی پچھلے سال کے کل بیرونی عازمین سے زیادہ ہو چکی ہے، جو مسلمانوں کے جذبہِ ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سعودی حکومت نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی سیکیورٹی اور سفری سہولیات کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں تاکہ جنگ کے سائے میں بھی مناسکِ حج پرسکون ماحول میں ادا کیے جا سکیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Haj Pilgrim Numbers Surpass 2025 Arrivals Despite Middle East War


Over 1.5 million pilgrims have arrived in Saudi Arabia from across the globe for the upcoming Haj, exceeding the total number of international visitors from last year despite the ongoing military conflict in the Middle East, according to Saudi officials.

Regional Conflict and Flight Disruptions

The geopolitical conflict triggered by US and Israeli strikes on Iran in late February led to retaliatory strikes across the Gulf, causing widespread airspace closures and skyrocketing travel costs. Major Gulf carriers in the UAE, Qatar, and Bahrain worked aggressively to restore their operational capacities after weeks of flight cancellations, ensuring pilgrims could reach the holy sites safely.

Official Statistics from Saudi Authorities

"The total number of pilgrims arriving from abroad has reached 1,518,153," Saleh Al-Murabba, the commander of Saudi Arabia’s Haj Passport Forces, announced during a press conference late Friday. This figure is expected to surge further over the weekend as the formal Haj rituals are set to begin on Monday.

Comparatively, last year’s international arrivals stood at 1,506,576 out of a grand total of 1.67 million pilgrims. Despite severe regional unrest, the resilient turnout highlights the profound spiritual dedication of Muslims worldwide as Saudi Arabia deploys extensive resources to manage the massive influx under heightened regional tensions.

Comments