🏏 بنگلہ دیش کرکٹ میں ہلچل؛ ٹی 20 ورلڈ کپ سے دستبرداری کے فیصلے کی تحقیقات شروع!


بنگلہ دیش کی وزارتِ کھیل نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں قومی کرکٹ ٹیم کی شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں نئی حکومت نے سابقہ انتظامیہ کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

کمیٹی کی ساخت اور ٹاسک:

اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سابق ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر اے کے ایم ولی اللہ کر رہے ہیں، جبکہ دیگر ارکان میں سابق کپتان اور موجودہ چیف سلیکٹر حبیب البشر اور سپریم کورٹ کے وکیل فیصل دستگیر شامل ہیں۔ کمیٹی کو 15 ورکنگ ڈیز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

تنازع کیا تھا؟

یاد رہے کہ فروری اور مارچ 2026 میں بھارت میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے "سیکیورٹی خدشات" کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے ان خدشات کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کر دیا اور ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔

تحقیق کے اہم پہلو:

سفارتی ناکامی: کیا یہ فیصلہ واقعی سیکیورٹی کی بنیاد پر تھا یا یہ ایک سفارتی اور اسٹریٹجک ناکامی تھی؟

کھلاڑیوں کا موقف: سابق کپتان تمیم اقبال نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ اس معاملے کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا اور سابقہ انتظامیہ نے اسے غلط طریقے سے ہینڈل کیا۔

سابقہ دور کے فیصلے: کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا اس فیصلے کے پیچھے اس وقت کے کھیلوں کے مشیر آصف نذرل کے ذاتی بیانات یا سیاسی دباؤ شامل تھا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ شائقین اس فیصلے کو ملکی کرکٹ کی تاریخ کا ایک "سیاہ باب" قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس تنازع کی وجہ سے ٹیم ایک بڑے عالمی ایونٹ سے باہر ہو گئی تھی۔ اب نئی حکومت اس معاملے میں جوابدہی (Accountability) کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments