سعودی عرب کی حکومت نے حج 2026 کے دوران ضیوف الرحمن (حجاج کرام) کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے صفائی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ (منیٰ، مزدلفہ اور عرفات) میں حج کے ایام کے دوران صفائی اور ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے 22,000 سے زائد صفائی کارکنان (ورکرز) تعینات کیے جا رہے ہیں، جن کی مدد کے لیے 88,000 سے زائد جدید ترین کلیننگ یونٹس اور آلات استعمال کیے جائیں گے۔
24 گھنٹے مانیٹرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
مکہ مکرمہ کی میونسپلٹی (امانۃ العاصمۃ المقدسۃ) کے مطابق، حج کے دوران رش کے پیشِ نظر تمام مقدس مقامات پر چوبیس گھنٹے شفٹوں میں کام کیا جائے گا۔ اس میگا صفائی مہم کی نگرانی کے لیے جدید ترین آپریشنل کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں، جو سمارٹ ٹیکنالوجی اور جی پی ایس (GPS) سسٹم کے ذریعے صفائی کے عملے اور کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں کی لائیو لوکیشن اور کارکردگی کو مانیٹر کریں گے تاکہ کسی بھی جگہ کچرا جمع نہ ہو سکے۔
مقدس مقامات، خیموں کی بستیوں، شاہراہوں اور پیدل چلنے والے راستوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹن کچرا ہٹانے کے لیے خصوصی ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں اور کمپیکٹرز بھی میدان میں اتارے جا رہے ہیں، تاکہ حجاج کرام کو مناسک کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی بو یا تعفن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صحت عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کو اولویت
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے آپریشن کا مقصد صرف صفائی نہیں بلکہ تپتے ہوئے موسم میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنا اور صحتِ عامہ کا تحفظ ہے۔ تمام کچرا کنڈیوں اور حساس مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کش اسپرے (Disinfection) کیا جائے گا۔ اس صفائی آپریشن کو دنیا کا سب سے بڑا ہجوم مینیجمنٹ اور ماحولیاتی آپریشن قرار دیا جا رہا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے تحت حجاج کی خدمت کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حج کے دوران لاکھوں کے مجمعے میں صفائی کے اس بے مثال انتظام کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ ٹیمیں مکہ مکرمہ پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔

Comments
Post a Comment