عالمی موسمیاتی تبدیلی: 2030 تک دنیا تاریخ کے گرم ترین دور میں داخل ہو جائے گی، اقوامِ متحدہ کا انتباہ
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے 'عالمی موسمیاتی تنظیم' (WMO) نے دنیا کو ایک ہولناک ماحولیاتی خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی بحران میں شدت کے باعث 2030 تک زمین تاریخ کے شدید ترین گرم سال کا سامنا کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر میں متوقع موسمیاتی تبدیلی 'ایل نینو' (El Niño) کے باعث عالمی درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ اگلے سال یعنی 2027 میں ہی ٹوٹ سکتا ہے۔ فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلے) سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسیں فضا میں گرمی کو قید کر رہی ہیں، جس سے برطانیہ، یورپ، پاکستان اور بھارت سمیت ایشیا بھر میں شدید ترین ہیٹ ویوز آ رہی ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات کی تشویشناک رپورٹ
برطانوی محکمہ موسمیات کی جانب سے تیار کردہ اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال ایسا ہوگا جو 2024 کا ریکارڈ توڑ کر تاریخ کا گرم ترین سال بن جائے گا اور اس بات کا امکان 86 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 75 فیصد امکان ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں دنیا کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت سے 1.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی چیف سائمن اسٹیل کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں حالیہ ہیٹ ویوز اس بحران کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اور انسانی جانوں و معیشت کو بچانے کے لیے فوسل فیولز کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے سستی کلین انرجی اپنانا ہوگی۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ کا اضافہ زمین پر شدید ترین قحط، طوفان، سیلاب اور ناقابلِ برداشت ہیٹ ویوز کو جنم دے گا۔ اگرچہ پیرس معاہدے کا ہدف اب پورا ہونا مشکل نظر آ رہا ہے، لیکن اگر عالمی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جائیں تو درجہ حرارت کو 2 ڈگری سیلسیس سے نیچے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
'ایل نینو' کا اثر اور قطبِ شمالی میں پگھلتی برف
امریکی ماحولیاتی ادارے (NOAA) کے مطابق دسمبر 2026 سے فروری 2027 کے درمیان 'ایل نینو' کے متحرک ہونے کا 96 فیصد امکان ہے، جو بحرِ اوقیانوس کی ہواؤں میں تبدیلی کی وجہ سے سمندری گرمی کو فضا میں خارج کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ قطبِ شمالی (Arctic) کا خطہ عالمی اوسط کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے اگلے پانچ سالوں میں وہاں کی سردیاں معمول سے 2.8 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوں گی۔ اس تبدیلی کے باعث شمالی یورپ، الاسکا اور سائبیریا میں معمول سے زیادہ بارشیں جبکہ ایمیزون کے جنگلات میں شدید قحط کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ اس وقت دنیا میں ہر ایک منٹ میں ایک انسانی جان لے رہی ہے، اور اگر گیسوں کے اخراج کو فوری نہ روکا گیا تو یہ ہلاکتیں مزید بڑھ جائیں گی۔

Comments
Post a Comment