پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی ابھرتی ہوئی اسٹار سائرہ جبین نے پی سی بی (PCB) پوڈکاسٹ کے 80 ویں ایڈیشن میں شرکت کی، جہاں انہوں نے چترال کی خوبصورت وادی سے نکل کر قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچنے کے اپنے مشکل اور صبر آزما سفر پر تفصیلی گفتگو کی۔ سائرہ جبین پاکستان ویمنز ٹی 20 انٹرنیشنل ٹیم کی نمائندگی کرنے والی 60 ویں کھلاڑی بن چکی ہیں اور وہ فاطمہ ثنا کی قیادت میں آئندہ آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھی قومی اسکواڈ کا اہم حصہ ہیں۔
چترال سے لاہور اور آسٹریلیا کا سفر
سائرہ جبین نے پوڈکاسٹ کے دوران بتایا کہ انہوں نے کرکٹ کی اعلیٰ تربیت حاصل کرنے کے لیے چترال سے پشاور اور پھر وہاں سے لاہور منتقل ہونے کا کڑا فیصلہ کیا۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انہوں نے آسٹریلیا کا رخ بھی کیا، جہاں انہوں نے ایک پورا سیزن کلب کرکٹ کھیلی جس سے انہیں بین الاقوامی حالات کا تجربہ حاصل ہوا۔ سائرہ نے بتایا کہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ میڈیکل کے شعبے کو بطور پیشہ اختیار کریں، لیکن جب انہوں نے کرکٹ کا انتخاب کیا تو ان کے خاندان، خصوصاً ان کے والد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی اور سپورٹ کی۔
زمبابوے کے خلاف شاندار ڈیبیو
دائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والی سائرہ جبین نے گزشتہ ماہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا۔ انہوں نے صرف تین میچوں کی دو اننگز میں ہی اپنی شاندار بیٹنگ کی بدولت سلیکٹرز کو متاثر کیا۔ انہوں نے ایک میچ میں محض 32 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 50 رنز اسکور کیے، جس کی بدولت پاکستان کی ٹیم 223 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجانے میں کامیاب رہی۔ سائرہ کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے کھیلوں میں کیریئر بنانا آسان نہیں ہوتا، لیکن لگن ہو تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔
چترال کی وادیوں سے نکل کر ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے والی سائرہ جبین اب پاکستان کی کرکٹ میں خواتین کے لیے ایک نئی مثال بن چکی ہیں۔

Comments
Post a Comment