کراچی کی مبینہ 'ڈرگ کوئین پن' انمول عرف پنکی کے ریمانڈ میں 22 مئی تک توسیع؛ عدالت میں سنگین الزامات


کراچی کی ایک مقامی عدالت نے ہفتے کے روز شہر کے سب سے منظم منشیات کے نیٹ ورک کو چلانے والی مبینہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کو ایک مقدمے میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزمہ کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور قتل سمیت کئی سنگین مقدمات درج ہیں، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ کار تیزی سے پھیل رہا ہے۔

گرفتاری اور مختلف عدالتوں میں کارروائی

کراچی پولیس اور ایک سول ایجنسی نے گزشتہ منگل کو گارڈن کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ شہر میں منشیات کی سپلائی کا ایک انتہائی منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ بدھ کے روز پولیس نے اس کا تین روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں۔

ہفتے کے دن کراچی کے اضلاع جنوبی (South)، وسطی (Central) اور ملیر کی مختلف عدالتوں میں ملزمہ کے خلاف منشیات اور قتل کے مجموعی طور پر 15 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ سٹی کورٹ میں کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ سینٹرل کے مینیجسٹریٹ نے منشیات کے ایک مقدمے میں انمول کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) کی تحویل میں دیتے ہوئے 22 مئی تک ریمانڈ منظور کیا اور تفتیشی افسر کو اگلی سماعت پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

ملزمہ کے پولیس اور حکام پر سنگین الزامات

ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی عدالت میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے دوران ملزمہ انمول نے روتے ہوئے پولیس پر تشدد اور غیر قانونی حراست کے سنگین الزامات عائد کیے۔ ملزمہ نے عدالت کو بتایا، "میرا نام انمول ہے، مجھے گزشتہ 20 دنوں سے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ چھ مسلح افراد نے مجھے ایک گاڑی میں ڈالا اور اغوا کر کے لے گئے۔ مجھ پر منشیات سے بھرا ہوا بیگ ڈال دیا گیا اور 15 دن بعد مجھے باقاعدہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ جس گھر سے میری گرفتاری دکھائی گئی ہے، وہ میرا نہیں ہے بلکہ مجھے لاہور سے اٹھایا گیا تھا۔"

ملزمہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ تفتیش کاروں کی مرضی کے مطابق لوگوں کے نام لے۔ انمول نے کہا، "مجھ پر 20 سے 25 جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میں نے سب کچھ تسلیم نہ کیا تو میرے خاندان کو اٹھا لیا جائے گا۔ مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں بنی گالہ سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت کا نام لوں۔" عدالت نے ملزمہ کا بیان قلمبند کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو پچھلے عدالتی احکامات پیش کرنے کا حکم دیا اور ملزمہ کی صحت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔

قتل کا مقدمہ اور ملیر کورٹ کا فیصلہ

بغدادی تھانے میں درج قتل کے ایک مقدمے میں تفتیشی افسر نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی اور عدالت کو بتایا کہ ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کی نشاندہی پر مزید منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے اب تک اس کے خلاف 11 نئے مقدمات درج کیے ہیں۔ عدالت نے قتل کے مقدمے میں دو دن کی توسیع منظور کی جبکہ دیگر 12 مقدمات میں ملزمہ کو جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی رپورٹ طلب کر لی۔ سماعت کے دوران جب کچھ وکلاء نے اس کی نمائندگی کا دعویٰ کیا تو انمول نے واضح کیا کہ "یہ میرے وکلاء نہیں ہیں"۔

دوسری جانب ملزمہ کو سچل تھانے میں درج منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ملیر کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ایک گھر سے منشیات ملی ہیں، تاہم ملزمہ نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔ ملیر کورٹ نے پولیس کی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور 14 دن کے اندر چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔ سندھ کے قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منتظر مہدی کے مطابق پراسیکیوشن ملیر کورٹ کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہی ہے۔

مبینہ ڈرگ کوئین پن کا یہ کیس کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورکس کے خلاف ایک اہم ترین آپریشن بن چکا ہے جس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Karachi Court Remands Alleged Drug Queenpin Anmol Into Police Custody Till May 22


A local court in Karachi on Saturday granted physical remand of the alleged narcotics dealer Anmol alias Pinky to the police until May 22 in one of the multiple high-profile cases registered against her. Authorities describe her as the operator of one of the city’s most sophisticated and organized narcotics supply networks.

Arrest and Multiple Court Proceedings

Anmol was arrested on Tuesday during a joint operation conducted by the city police and a civil intelligence agency at an apartment located in the Garden area. Magistrates across districts South, Central, and Malir heard a total of 15 cases against her, ranging from narcotics possession to murder allegations. The magistrate of the Central court handed her over to the Special Investigation Unit (SIU) till May 22, directing the officer to submit a progress report.

Serious Allegations Against Police Custody

During the hearing in the South court, Anmol made dramatic claims before the duty magistrate, alleging illegal detention and torture. "My name is Anmol. I have been illegally kept for 20 days. Six men forced me into a vehicle from Lahore, not from the apartment they are showing. I was framed with a bag full of narcotics and am being forced under immense pressure to name specific individuals, including a personality from Banigala," she stated before the court. She further claimed that she was threatened that her family would be taken away if she did not confess to all 25 cases being compiled against her.

Murder Case and Malir Court’s Decision

In a murder case registered at the Baghdadi Police Station, the court granted a two-day extension in physical remand after the investigation officer stated that she had been an absconder for a long period. Meanwhile, the Malir court rejected the police's physical remand plea in a separate narcotics case linked to the Sachal Police Station, sending her to jail on judicial remand instead. The Sindh prosecution department, led by Acting Prosecutor General Muntazir Mehdi, has announced its decision to challenge the Malir court's lenient ruling in a higher court.

The unfolding drama surrounding the alleged drug queenpin continues to grip Karachi as investigations unearth deep-rooted networks.

Comments