کراچی بندرگاہ کے قریب 2 غیر ملکی جہاز آپس میں ٹکرا گئے؛ وفاقی وزیر نے تحقیقات کا حکم دے دیا

Karachi Port Trust marine rescue teams managing foreign ships collision accident near fairway buoy

کراچی بندرگاہ کے بیرونی چینل (Fairway Buoy) کے قریب دو غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان تصادم کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کی میرین ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر ایک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے سمندری امور جنید انوار چوہدری نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

کون سے جہاز ٹکرائے اور حادثہ کیسے ہوا؟

پورٹ حکام کے مطابق یہ حادثہ لائبریا کے جھنڈے والے کنٹینر بردار جہاز "ایم وی پوپو" (MV Popo) اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے جھنڈے والے کیبل کی مرمت کرنے والے جہاز "ایم وی نیوا" (MV NIWA) کے درمیان پیش آیا۔ کنٹینر بردار جہاز بندرگاہ کے برتھ نمبر 8 اور 9 سے روانہ ہوا تھا، جبکہ یو اے ای کا جہاز چینل کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور پائلٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ تصادم کے نتیجے میں کنٹینر بردار جہاز پر لادے گئے کچھ کنٹینرز سمندر میں گر گئے۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ حادثہ دونوں جہازوں کے کپتانوں (Masters) کی مبینہ غفلت کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

کے پی ٹی کے آپریشنز سینٹر نے فوری طور پر چار ٹگ بوٹس روانہ کیں جنہوں نے متاثرہ اماراتی جہاز کو بحفاظت کراچی ہاربر منتقل کر دیا، جہاں اسے برتھ نمبر 5 پر مرمت کے لیے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، لائبرین جہاز "ایم وی پوپو" نے پورٹ کنٹرول کو مطلع کیا ہے کہ اس کا انجن اور سسٹم بالکل مستحکم ہے، تاہم اسے تفتیش مکمل ہونے تک بیرونی لنگر گاہ (Outer Anchorage) پر روک دیا گیا ہے۔

تحقیقات اور قانونی کارروائی

کے پی ٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کراچی پورٹ کی حدود سے باہر کھلا سمندر میں پیش آیا۔ کے پی ٹی کے چیئرمین کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ہے، اور پورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ قصوروار جہاز کو پاکستانی سمندری حدود میں ہی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ نقصانات کا حتمی اندازہ لگانے کے بعد ذمہ دار جہاز کے مالکان سے بھاری معاوضہ طلب کیا جائے گا۔ اس واقعے کی اطلاع میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (MSA) اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی دے دی گئی ہے۔

کے پی ٹی کے چیئرمین ایڈمرل شاہد احمد نے تصدیق کی ہے کہ اس حادثے کے باوجود کراچی بندرگاہ پر بحری جہازوں کی آمد و رفت اور تمام تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Investigation Launched After Two Foreign Vessels Collide Near Karachi Port


The federal government has initiated a high-level investigation following a major maritime accident where two foreign commercial vessels collided near the Fairway Buoy outside Karachi Port. The Karachi Port Trust (KPT) marine teams immediately launched a large-scale rescue operation. Fortunately, no casualties or injuries were reported in the incident. Minister for Maritime Affairs Junaid Anwar Chaudhry ordered a transparent inquiry to ascertain the exact causes of the collision.

Vessels Involved and Collision Details

According to port authorities, the collision occurred between the Liberia-flagged container vessel MV Popo and the UAE-flagged cable repair vessel CS NIWA/MV NIWA. The container ship had just departed from berths 8 and 9, while the UAE vessel was slowly moving toward the channel while waiting to embark a pilot. Following the impact, several containers from MV Popo fell into the open sea. Preliminary assessments by the minister suggest that the accident occurred due to negligence on the part of the masters of both vessels.

Rescue Operations and Detainment

KPT tugboats successfully escorted the damaged UAE cable-laying vessel to the harbor, where it was safely berthed at berth No. 5 for technical repairs. Meanwhile, MV Popo reported that it remained operationally stable and was subsequently ordered to halt at the outer anchorage for ongoing investigation. Port sources confirmed that the responsible vessel has been detained within Pakistan's maritime limits, and financial compensation will be claimed after a complete damage assessment.

KPT Chairman Admiral Shahid Ahmed reassured the public that port operations and maritime commercial activities at Karachi Port remain completely unaffected and are continuing as normal.

Comments