بالی ووڈ کے سُپر اسٹار رنویر سنگھ اور معروف فلم ساز فرحان اختر کے درمیان فلم 'ڈان 3' (Don 3) کے تنازع نے ہندی سینما میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رنویر سنگھ کے شوٹنگ شروع ہونے سے محض چند ہفتے قبل فلم سے مبینہ طور پر الگ ہونے کے بعد، فلمی ورکرز کی سب سے بڑی تنظیم 'فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز' (FWICE) نے اداکار کے خلاف ملک گیر سطح پر "عدم تعاون" کی سخت ترین ہدایت جاری کر دی ہے [1، 8]۔ اس فیصلے کے تحت انڈسٹری کے ہزاروں ٹیکنیشنز، لائٹ مین اور دیگر عملہ رنویر کے ساتھ کام نہیں کرے گا [1، 8]۔
تخلیقی اختلافات اور 45 کروڑ روپے کا نقصان
ایکسل انٹرٹینمنٹ (Excel Entertainment) کے پروڈیوسرز فرحان اختر اور رتیش سدھوانی نے فیڈریشن کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ رنویر سنگھ اس پروجیکٹ کے ساتھ تین فلموں کے معاہدے کے تحت جڑے ہوئے تھے۔ فلم کی لوکیشن ریکی، اسکرپٹ ڈسکشن اور یہاں تک کہ باقاعدہ پرومو بھی رنویر کی موجودگی میں شوٹ کیا گیا تھا۔ تاہم، شوٹنگ کے لیے بیرونِ ملک روانگی سے ٹھیک تین ہفتے پہلے رنویر نے اچانک پروجیکٹ چھوڑ دیا، جس کے باعث پروڈیوسرز کو پری پروڈکشن کی مد میں تقریباً 45 کروڑ بھارتی روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے [1، 6]۔
ذرائع کے مطابق اس علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ تخلیقی اختلافات (Creative Differences) بنے۔ رنویر سنگھ 'ڈان' کے کردار کو زیادہ تاریک، پرتشدد اور گہرا (Dark and Violent) رنگ دینا چاہتے تھے، جبکہ ہدایت کار فرحان اختر اس فرنچائز کے روایتی اور اسٹائلش انداز کو برقرار رکھنے کے حق میں تھے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ رنویر سنگھ کو اپنا موقف پیش کرنے کے لیے تین نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جس کے بعد یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا [6، 8]۔
انڈسٹری دو دھڑوں میں تقسیم؛ رنویر کی ٹیم کا ردِعمل
اس تنازع کے بعد بالی ووڈ فلم انڈسٹری دو دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف پروڈیوسرز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آخری وقت پر کسی اسٹار کا فلم چھوڑنا پورے کریو کے روزگار اور کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کو داؤ پر لگا دیتا ہے [1، 7]۔ دوسری طرف، رنویر سنگھ کے حامیوں کا ماننا ہے کہ تخلیقی ہم آہنگی نہ ہونے کی صورت میں اداکاروں کا پروجیکٹ سے الگ ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ نامور گلوکار میکا سنگھ نے رنویر سنگھ کی حمایت کرتے ہوئے فیڈریشن کے ساتھ ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
شدید تنازع کے بعد رنویر سنگھ کی ٹیم نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رنویر فلم برادری اور ڈان فرنچائز کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ وہ پیشہ ورانہ اور ذاتی تعلقات کو عوامی تماشہ بنانے کے بجائے وقار، سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران بالی ووڈ کے لیے ایک ویک اپ کال ہے کہ اب زبانی یقین دہانیوں کے بجائے ہالی ووڈ کی طرح سخت اور کارپوریٹ طرز کے معاہدوں کو اپنایا جائے۔
امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان کی تاریخی وراثت کا حامل یہ برانڈ اب تخلیقیswagger کے بجائے قانونی دباؤ اور تنازعات کی وجہ سے میڈیا کی شہ سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔

Comments
Post a Comment