اسرائیلی فوج کی بمباری اور فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد سمیت 5 فلسطینی شہید

gaza-ceasefire-violation-israeli-strike
غزہ میں جاری عارضی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ اتوار کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں، شیلنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین ارکان سمیت مزید 5 فلسطینی شہید اور 5 زخمی ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

پناہ گزین کیمپوں پر وحشیانہ حملے

طبی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے وسط میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید ہوا، جس کی لاش کو مغربی غزہ کے الشفاء اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک اور ہولناک واقعے میں وسطی غزہ کے النسیریات پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی مکان کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک میاں بیوی اور ان کا بچہ موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ خاندان کے دیگر تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، گزشتہ روز شمال مغربی غزہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والا ایک معصوم بچہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

شمالی غزہ کے ساحل پر بھی اسرائیلی بحریہ نے مچھیروں کی کشتیوں پر توپ خانے اور مشین گنوں سے شدید فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی مچھیرا شدید زخمی ہو گیا۔ اسی طرح السودانیہ کے ساحلی علاقے میں اسرائیلی شیلنگ کے ٹکڑے لگنے سے ایک اور شہری زخمی ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

خان یونس میں تباہی اور سیز فائر کے بعد کے اعدادوشمار

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں بھی اسرائیلی فورسز نے بنی سہیلا چوک کے قریب شدید فائرنگ اور گولہ باری کی اور مشرق کی جانب واقع متعدد سرکاری و نجی عمارتوں کو مسمار کر دیا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے باقاعدہ اعلان کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 880 سے زائد فلسطینی شہید اور 2,645 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو اس سیز فائر کی افادیت پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔

دو سالہ جنگ کے ہولناک نقصانات

یہ جنگ بندی اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل کی اس دو سالہ خونی جنگ کو روکنے کے لیے کی گئی تھی جس نے غزہ کے 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ اس ہولناک جنگ میں اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 172,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور اب جنگ بندی کے باوجود روزانہ گرتی لاشیں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا تازیانہ ہیں۔

عالمی برادری کی خاموشی اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں نے غزہ کے محصور عوام کی زندگیوں کو ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

5 Palestinians Killed, 5 Injured by Israeli Fire in Gaza Despite Ceasefire


Five Palestinians, including three members of the same family, were killed and five others sustained injuries during fresh Israeli military assaults across the Gaza Strip on Sunday. Medical sources confirmed the casualties, pointing out that daily violations continue to severely undermine the ongoing ceasefire agreement.

Fatal Attacks on Refugee Camps

Medical officials told Anadolu that one Palestinian was killed by direct Israeli gunfire in the center of the Jabalia refugee camp in northern Gaza. Meanwhile, an Israeli airstrike deliberately targeted a residential home in the Nuseirat refugee camp in central Gaza, instantly killing a couple and their young child, while leaving three others wounded. Additionally, a Palestinian child succumbed to severe injuries sustained during an Israeli strike on a police headquarters northwest of Gaza.

Naval forces also targeted Palestinian fishing vessels off the coast of Gaza City with machine-gun fire and artillery shells, moderately wounding a local fisherman. Another civilian was struck by flying shrapnel along the Al-Sudaniya beach area. Concurrently, the Israeli army executed large-scale demolition operations targeting structural facilities in northern Gaza, accompanied by massive explosions.

Demolitions in Khan Younis and Rising Casualties

In the southern city of Khan Younis, Israeli troops carried out similar tactical demolitions east of the city, accompanied by intense live fire and heavy artillery shelling near the Bani Suheila roundabout. According to data provided by Gaza’s Health Ministry, more than 880 people have been killed and over 2,645 others injured in systematic Israeli attacks since the official ceasefire was mediated on October 10, 2025.

Legacy of a Devastating Two-Year War

The diplomatic agreement was originally implemented to halt Israel's devastating two-year war, which has claimed the lives of over 72,000 people—mostly women and children—and injured more than 172,000 individuals since October 2023. The relentless military campaign has caused widespread structural damage, decimating nearly 90% of civilian infrastructure throughout the enclave.

The continued disregard for the diplomatic truce places millions of displaced civilians under constant threat as casualties continue to mount daily.

Comments