سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں ایک بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران فتنہ الخوارج کے ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو اس کے 4 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔
کمانڈر 'طور ثاقب' کا عبرتناک انجام
یہ کارروائی اسپن وام کے علاقے بوبلی مسجد کے گردونواح میں کی گئی۔ ہلاک ہونے والے اہم دہشت گرد رہنما کی شناخت عمر عرف جان میر عرف "طور ثاقب" کے نام سے ہوئی ہے، جس کے سر کی قیمت حکومت کی جانب سے 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ یہ کمانڈر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر ہونے والے متعدد حملوں کا ماسٹرمائنڈ تھا۔ دہشت گردوں نے علاقے میں زیرِ زمین بنکرز، سرنگیں اور بارودی سرنگوں کے جال بچھا رکھے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انہیں گھیرے میں لے کر جہنم واصل کر دیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی ستائش
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) May 21, 2026
انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ عمر عرف جان میر سمیت 4 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مٹی کے بہادر بیٹوں نے جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ فتنہ الخوارج کے اہم مہرے کا عبرتناک انجام یقینی بنایا ہے، جو ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
آپریشن 'عزمِ استحکام' اور خوارج کا خاتمہ
یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو دن قبل ہی آئی ایس پی آر (ISPR) نے شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں 22 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کے تحت جاری یہ کارروائیاں علاقے میں امن و استحکام اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
دہشت گردانہ حملوں میں واضح کمی
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں 42 فیصد واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ میں ہونے والے 146 حملوں کے مقابلے میں اپریل میں یہ تعداد کم ہو کر 85 رہ گئی، جبکہ ان حملوں میں ہونے والی ہلاکتیں بھی 106 سے گر کر 60 ہو گئیں۔ ماہرین اس بہتری کی بڑی وجہ سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی فوج کی مؤثر کارروائیوں اور سخت سیکیورٹی آپریشنز کو قرار دے رہے ہیں۔
پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک اپنا آپریشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Comments
Post a Comment