لوئر جنوبی وزیرستان: وانا بازار میں دھماکا، قبائلی مشر ملک طارق خان سمیت 3 افراد جاں بحق

لوئر جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر اور مرکزی تجارتی مرکز وانا بازار میں ایک زوردار دھماکے کے نتیجے میں احمد زئی وزیر قبیلے کے سربراہ ملک طارق خان سمیت کم از کم تین افراد جاں بحق اور دو شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔

ملک طارق خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر شاہ وزیر کے مطابق دھماکا وانا بازار میں خانزادہ مارکیٹ کے گیٹ کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں سے قبائلی رہنما ملک طارق خان کی گاڑی گزر رہی تھی۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی زد میں آ کر ہدف بنائی گئی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ پاس موجود دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا تھا اور گاڑی کو ہی خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے دیگر دو افراد کی شناخت ملک سرفراز خان یار گل خیل اور یار گل خیل جان کے ناموں سے کی ہے۔ واقعے میں زخمی ہونے والے دو افراد کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد پولیس، سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکوڈ نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور وانا بازار کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر

صوبے کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چند دنوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے لکی مروت کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے دھماکے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور 33 زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل بنوں کے فتح خیل چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہونے والے خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔ وانا کا حالیہ واقعہ بھی اسی بدامنی کے سلسلے کی کڑی نظر آتا ہے، جس نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے سیکیورٹی آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا اور ملزمان کو کڑی سزا دی جائے گی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Three Killed in Wana Bazaar Blast in Lower South Waziristan


A powerful explosion in Wana Bazaar, the main commercial hub of Lower South Waziristan, killed at least three people, including Ahmadzai Wazir tribe chief Malik Tariq Khan, and critically injured two others on Monday, police confirmed.

Tribal Chief Targeted in Remote-Controlled Attack

According to District Police Officer (DPO) Muhammad Tahir Shah Wazir, the blast occurred near the gate of Khanzada Market just as Malik Tariq Khan's vehicle was passing through the area. The target vehicle was severely damaged, and windows of nearby structures were shattered. Initial investigations indicate the vehicle was deliberately targeted using a remote-controlled explosive device.

The other two deceased have been identified as Malik Sarfaraz Khan Yar Gul Khel and Yar Gul Khail Jan. The injured were shifted to the District Headquarters Hospital in Wana, where they remain in critical condition. Following the blast, security forces cordoned off the area and launched a search operation, tightening security checks across the region's entry and exit routes. Tribal elders and political figures have strongly condemned the attack.

Recent Surge of Terrorism in Khyber Pakhtunkhwa

This attack comes amid a troubling surge of violence in the province. Last week, a powerful blast in a busy market in Lakki Marwat district martyred nine people, including two traffic police officials. Prior to that, a devastating suicide attack at the Fateh Khel police checkpoint in Bannu claimed the lives of 15 police personnel, reducing the post to rubble. Security agencies are closely analyzing these events as they intensify counter-terrorism efforts to restore stability in the region.

Authorities have vowed to track down the perpetrators behind the Wana Bazaar blast and bring them to justice.

Comments