سویٹزرلینڈ کے ایک مصروف ریلوے اسٹیشن پر چاقو زنی کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک مسلح شخص نے اندھا دھند حملہ کر کے تین شہریوں کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ونٹرتھور (Winterthur) ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 31 سالہ سوئس مبینہ حملہ آور کو موقع سے گرفتار کر کے اس کے قبضے سے تیز دھار آلہ برآمد کر لیا ہے۔
زخمیوں کی حالت اور عینی شاہدین کے بیانات
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ چاقو زنی کے اس حملے میں زخمی ہونے والے تینوں افراد سوئس شہری ہیں، جن کی عمریں 28، 43 اور 52 سال بتائی گئی ہیں۔ انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک دفتری عمارت میں کام کرنے والے عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے صبح ساڑھے 8 بجے کے قریب ایک شخص کو چاقو لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد اس نے وہاں موجود راہگیروں پر حملہ کر دیا۔
ایک اور عینی شاہد، جو پیشے سے ٹیکسی ڈرائیور ہے، نے زیورخ کے معروف اخبار کو بتایا کہ حملہ آور اسٹیشن کے زیرِ زمین راستے (Underpass) میں گھوم رہا تھا اور سامنے آنے والے لوگوں پر پے در پے وار کر رہا تھا۔ واقعے کے فوری بعد سوئس سیکیورٹی اداروں نے اسٹیشن کے بڑے حصے کو گھیرے میں لے کر عام رفت و آمد کے لیے بند کر دیا۔
ٹیچر کی بہادری اور تحقیقات کا آغاز
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جس وقت یہ حملہ ہوا، وہاں سے اسکولی بچوں کا ایک گروپ بھی گزر رہا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک بہادر اسکول ٹیچر نے بچوں کی حفاظت کے لیے خود کو ان کے سامنے کھڑا کر دیا تاکہ وہ اس وحشیانہ حملے سے محفوظ رہ سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور حملے کے اصل محرکات معلوم کرنے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ونٹرتھور ریلوے اسٹیشن پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور فارنزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

Comments
Post a Comment