برطانیہ: اسرائیلی دفاعی کمپنی پر حملے کے الزام میں 4 سماجی کارکن مجرم قرار، پولیس افسر پر ہتھوڑے سے وار
برطانیہ کی ایک عدالت نے 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم سے وابستہ چار کارکنوں کو ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی کی فیکٹری پر حملے اور توڑ پھوڑ کے جرم میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ اگست 2024 میں شارلٹ ہیڈ، سیموئیل کارنر، لیونا کامیؤ اور فاطمہ رجوانی نے برسٹل کے قریب واقع 'ایلبٹ سسٹم' نامی فیکٹری میں گھس کر بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس سے تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ سرخ لباس پہنے ان کارکنوں نے ایک پرانی جیل وین کے ذریعے فیکٹری کے حفاظتی شٹر کو توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق، ملزمان نے فیکٹری کے اندر کمپیوٹرز، ڈرونز اور دیگر آلات کو ہتھوڑوں اور آہنی سلاخوں سے تباہ کیا۔ اس دوران ملزم سیموئیل کارنر نے ایک خاتون پولیس سارجنٹ پر ہتھوڑے سے دو وار کیے، جس کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ عدالت نے سیموئیل کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا ہے۔
کارکنوں کا موقف تھا کہ ان کا مقصد ان ڈرونز اور فوجی آلات کو تباہ کرنا تھا جنہیں اسرائیل غزہ میں معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اگرچہ کارکنوں نے اپنے فعل کو درست قرار دیتے ہوئے جج سے رہائی کی اپیل کی، تاہم عدالت نے املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کو درست پایا۔ دوسری جانب ایلبٹ سسٹم یو کے نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔
پولیس فیڈریشن کے چیئرمین ٹوم جینٹ نے پولیس افسر پر حملے کو "خالص برائی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے لیکن ہتھوڑے سے ریڑھ کی ہڈی توڑنا احتجاج نہیں بلکہ مجرمانہ غنڈہ گردی ہے۔ عدالت نے چاروں مجرموں کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں حراست میں لے لیا ہے، اور ان کی سزا کا اعلان 12 جون کو کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ 'فلسطین ایکشن' پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے سے پہلے پیش آیا تھا۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment