یوکرین پر روس کا اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ' ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرونز کی برسات، 4 ہلاک اور درجنوں زخمی

russia-ukraine-missile-attack
روس نے یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک نئی اور ہولناک فضائی کارروائی شروع کی ہے، جس میں سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں مہلک میزائل داغے گئے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے مطابق، اس بار روس کا بنیادی ہدف دارالحکومت کیف تھا، تاہم ملک کے دیگر کئی علاقے بھی اس شدید بمباری کی زد میں آئے ہیں۔ حالیہ حملوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 83 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ناقابلِ تسخیر ہائپرسونک 'اوریشکن' میزائل کا استعمال

روس کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں نئی نسل کا ہائپرسونک 'اوریشکن' (Oreshnik) میزائل استعمال کیا گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے الزام لگایا تھا کہ یوکرین نے گزشتہ جمعہ کو روسی زیرِ قبضہ قصبے اسٹاروبلسک میں ایک طالب علم ہاسٹل پر حملہ کر کے 21 افراد کو ہلاک کیا تھا، اور اتوار کا یہ بڑا حملہ اسی کارروائی کا "کرپارا جواب" ہے۔ یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کی شام سے اب تک روسی فوج کی جانب سے 90 میزائل اور ریکارڈ 600 ڈرونز داغے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

صدر زیلینسکی نے ٹیلی گرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ روس نے ہائپرسونک میزائل کیف کے قریب واقع شہر 'بیلا تسرکوا' پر داغا۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے 10 گنا زیادہ تیز سفر کرتا ہے اور اسے فضا میں روکنا موجودہ دفاعی نظام کے لیے ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ یوکرین کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ وہ میزائل کی اقسام کے بارے میں حتمی تحقیقات کر رہے ہیں۔

کیف میں تباہی اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات

یوکرینی نیشنل پولیس کے مطابق، دارالحکومت کیف میں 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں، شاپنگ سینٹرز، اسکول اور واٹر سپلائی کی اہم تنصیبات شامل ہیں۔ کیف کے میئر وٹالی کلیٹسکو نے بتایا کہ شہر کے مرکزی شیونینکو ڈسٹرکٹ میں ایک 9 منزلہ رہائشی عمارت پر میزائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک اور اسکول کے قریب ہونے والے دھماکے کے ملبے نے ایئر ریڈ شیلٹر کا راستہ بند کر دیا، جس سے کئی پناہ گزین اندر ہی پھنس گئے۔

جنگ کی سنگین ہوتی صورتحال

کیف ریجن کے گورنر مائیکولا کالاشنک نے اس کارروائی کو "پرامن شہریوں کے خلاف دانستہ دہشت گردی" قرار دیا ہے۔ یوکرینی وزیرِ خارجہ اندریسیبیا کے مطابق، کیف کے علاوہ اودیسا، خارکیف، سومی، اور پولتاوا سمیت کئی دیگر صوبوں میں بھی روسی فضائیہ نے بمباری کی ہے۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروسز ملبہ ہٹانے، آگ بجھانے اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

روسی فوج کا یہ جارحانہ حملہ یوکرین جنگ کو ایک نئے اور انتہائی خطرناک موڑ پر لے آیا ہے، جہاں ہائپرسونک ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع ہو چکا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Large-Scale Russian Attack on Ukraine Leaves Four Dead and Dozens Injured


Russia has launched a massive wave of strikes against Ukraine, firing hundreds of drones and dozens of missiles. Ukrainian President Volodymyr Zelensky confirmed that while the capital city of Kyiv was the primary target, multiple other regions were hit, leaving at least four people dead and 83 others injured across the country.

Deployment of Oreshnik Hypersonic Missile

The Russian Defence Ministry stated that the newly developed Oreshnik hypersonic missile was deployed in the attacks. Russian President Vladimir Putin justified the retaliation following an alleged Ukrainian strike on a student dormitory in Starobilsk that killed 21 people. Ukraine's air force detected a staggering 90 missiles and 600 drones during the synchronized overnight barrage.

President Zelensky noted in a Telegram post that the Oreshnik missile—which travels at 10 times the speed of sound and is considered virtually impossible to intercept—targeted the city of Bila Tserkva. Local authorities are continuing expert evaluations to officially verify the missile specifications used during the offensive.

Widespread Destruction Across Kyiv

According to national police reports, the structural damage spanned over 50 locations in Kyiv alone. Residential infrastructure, educational institutions, shopping facilities, and critical water supply centers were heavily impacted. A direct hit on a nine-storey residential building in the central Shevchenko district triggered intense blazes, while falling debris temporarily trapped citizens inside an air raid shelter at a nearby school.

Escalation Across Multiple Regions

Ukrainian Foreign Minister Andrii Sybiha confirmed that outside of the capital enclave, heavy strikes also targeted regional hubs including Odessa, Kharkiv, Sumy, and Poltava. Emergency response teams remain deployed nationwide to extinguish residential fires, clear dense debris fields, and manage urgent civilian triage operations as casualties continue to rise.

The latest calculated escalation marks a highly critical juncture in the ongoing conflict, highlighting the dangerous battlefield introduction of unstoppable hypersonic weaponry.

Comments