بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بدعنوانی اور میچ فکسنگ کے خلاف جاری تحقیقات میں بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک مقامی کھلاڑی سمیت چار افراد پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ اس اقدام نے بنگلہ دیش کے مقامی کرکٹ ڈھانچے میں موجود بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے مطابق، یہ تحقیقات ایک مقامی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے دوران مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع پر شروع کی گئی تھیں۔ تحقیقات کے دوران ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ مذکورہ کھلاڑی اور دیگر افراد میچ کے نتائج پر اثر انداز ہونے اور بکیز (Bookies) کے ساتھ رابطے میں ملوث تھے۔ فردِ جرم عائد کیے جانے والے افراد میں کھلاڑی کے علاوہ ٹیم آفیشلز اور کچھ بیرونی عناصر بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔ ان چاروں افراد کو دفاع کے لیے وقت دیا گیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ آنے تک ان کی ہر قسم کی کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹ پہلے بھی اس طرح کے تنازعات کا شکار رہی ہے، جس کے باعث بورڈ نے اپنے اینٹی کرپشن قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس حالیہ کارروائی کو مقامی کرکٹ سے "فکسنگ کے ناسور" کو ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment