امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پولینڈ میں مزید 5,000 فوجی تعینات کرنے کا غیر متوقع اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پینٹاگون کی جانب سے پولینڈ کے لیے 4,000 فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی کی منسوخی کے محض ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ سویڈن میں وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپ کا تحفظ کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرنے کا سفر جاری رہے گا۔
پولش صدر سے ذاتی تعلقات اور 'امریکہ فرسٹ' ایجنڈا
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹرتھ سوشل' پر جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے نومنتخب صدر کارول ناویروکی کے ساتھ ان کے بہترین اور مضبوط ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کی ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی انتخابات کے دوران کھل کر حمایت کی تھی۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس اپنے "امریکہ فرسٹ" ایجنڈے کے تحت یورپ میں مجموعی فوجی موجودگی کم کرنے کے اشارے دے رہا ہے، لیکن پولینڈ کے معاملے میں یہ خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ پولش صدر ناویروکی ٹرمپ کے کٹر حامی مانے جاتے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ ٹرمپ ہی یورپ میں سیکیورٹی کے ضامن ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سویڈن کے شہر ہیلسنگ برگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں شراکت داروں پر دفاعی اخراجات کا بوجھ بانٹنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ (ایران) میں امریکی فوجی کارروائیوں پر نیٹو اتحادیوں کے سرد رویے سے شدید مایوس اور ناراض ہیں، اسی لیے عالمی سطح پر فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جرمنی سے تنازع اور فوجیوں کا انخلا
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے جرمنی سے اپنے 5,000 فوجی نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ صدر ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز کے درمیان ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مذاکرات کے معاملے پر ہونے والی شدید تلخ کلامی بنی تھی۔ چانسلر میرز نے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو "ذلیل" کیا ہے، جس پر ٹرمپ سخت ناراض ہو گئے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پولینڈ بھیجے جانے والے یہ 5,000 فوجی وہی ہیں جنہیں جرمنی سے نکالا جا رہا ہے یا یہ کوئی الگ دستہ ہے۔ اس وقت بھی یورپ میں سب سے زیادہ (36,000 سے زائد) امریکی فوجی جرمنی میں ہی موجود ہیں۔
کئی ریپبلکن رہنماؤں نے جرمنی سے فوج نکالنے پر ٹرمپ پر تنقید کی ہے کہ اس سے روس کو غلط پیغام جائے گا، تاہم پولینڈ میں فوج بڑھانے سے مشرقی یورپ کی دفاعی لائن کچھ حد تک مضبوط ہونے کی امید ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Nato Chief Welcomes US Sending 5,000 Troops to Poland
US President Donald Trump announced that the United States will deploy an additional 5,000 troops to Poland. This decision comes exactly a week after the Pentagon abruptly cancelled a previously planned deployment of 4,000 soldiers to the eastern European nation. Nato Secretary General Mark Rutte welcomed the move ahead of a foreign ministers' meeting in Sweden, while noting that Europe's trajectory toward strategic independence from Washington will continue.
Personal Ties and 'America First' Strategy
Writing on his Truth Social platform, Trump stated the deployment was deeply rooted in his strong relationship with Polish President Karol Nawrocki, whom Trump endorsed during last year's presidential race. While the White House has consistently signaled plans to scale back its military footprint in Europe under the "America First" doctrine, Poland remains an exception due to Nawrocki’s staunch pro-Trump stance.
Meanwhile, US Secretary of State Marco Rubio is pushing Washington’s Nato allies for increased burden-sharing during defense talks in Helsingborg. Rubio revealed that President Trump remains deeply disappointed with European allies over their lack of cooperation regarding US military operations against Iran in the Middle East and their reluctance to police the strategic Strait of Hormuz.
Tensions with Germany and Strategic Shift
The strategic shuffle follows a major diplomatic fallout earlier this month when Trump ordered the withdrawal of 5,000 US troops from Germany. This was triggered by a fierce disagreement with German Chancellor Friedrich Merz, who publicly suggested the US had been "humiliated" by Iranian negotiators. It remains unclear whether the forces being rerouted to Poland are the ones leaving Germany, where the US still maintains its largest European presence with over 36,000 active-duty personnel.
Although several Republican lawmakers have criticized the withdrawal from Germany, warning it risks signaling weakness to Russia, the reinforcement of Poland underscores Washington's selective reallocation of its global military commitments.
Comments
Post a Comment