صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اگلے مالی سال برائے 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کر لیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اہم ترین بجٹ اجلاس 5 جون کی شام 5 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، جبکہ سینیٹ کا اجلاس اسی روز شام 6 بجے طلب کیا گیا ہے۔ اس دوران وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا جس میں بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
ارکانِ پارلیمنٹ کی حج سے واپسی اور تاریخوں میں تبدیلی
ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر یکم جون کو دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس بلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم، اس سال 60 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں، جن کی جون کے پہلے ہفتے کے اوائل میں وطن واپسی متوقع ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو بجٹ اجلاس کی تاریخوں میں یہ تبدیلیاں کرنا پڑیں اور اب اسے 5 جون کو طلب کیا گیا ہے۔
معاشی سروے اور عوامی ریلیف کی توقعات
وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے ایک روز قبل، یعنی 4 جون کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے معاشی سروے (Economic Survey) جاری کیا جائے گا جس میں ملکی معیشت کی سالانہ کارکردگی کا احاطہ کیا جائے گا۔ پچھلے کچھ عرصے سے جاری شدید معاشی دباؤ کے بعد، عوام اس بجٹ سے ریلیف، بالخصوص تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے بھی بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے مثبت اشارے دیے ہیں۔
5 جون کو پیش کیا جانے والا یہ بجٹ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments
Post a Comment