امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران امن مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر جیو پولیٹیکل منظر نامے سے جوڑتے ہوئے ایک انتہائی متنازع اور بڑا بیان داغ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن نے "ابراہم ایکارڈز" (Abraham Accords) پر دستخط نہ کیے تو امریکہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن معاہدے پر پیش رفت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممالک ہمارے مقروض ہیں اور انہیں یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
اسرائیلی مفادات اور عالمی برادری کا ردِعمل
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ معروف تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اسرائیل کے سفارتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے پوری دنیا کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا واضح مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اسرائیل اور مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی ناگزیر ہے، اور وہ اس مقصد کے لیے ایران کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے 'ابراہم ایکارڈز' کی توسیع کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے کے کئی ممالک پہلے ہی شدید جیو پولیٹیکل دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان سے پاکستان سمیت ان تمام چھ مسلم ممالک کے لیے سفارتی چیلنجز میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
مسلم ممالک کے لیے نئی آزمائش
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم مسلم ممالک کا اسرائیل کے حوالے سے ہمیشہ سے ایک واضح اور اصولی مؤقف رہا ہے، جو کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران ڈیل کو ابراہم ایکارڈز سے مشروط کرنا ان ممالک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، عمان اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے دباؤ کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے مسلم ممالک کو دیا جانے والا یہ الٹی میٹم آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور مسلم امہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نیا رخ پیدا کر سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment