لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بطور ضمانت جمع کرائی گئی 7 کروڑ روپے کی رقم واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نیب کی جانب سے کیس کی کارروائی باقاعدہ طور پر ختم کرنے اور مریم نواز کی بریت کے بعد سامنے آیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے رقم کی واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے عدالت میں حلف نامہ جمع کرایا جس میں تصدیق کی گئی کہ بیورو نے اس معاملے میں اپنی آئینی کارروائی واپس لے لی ہے۔ نیب کے اس بیان کے بعد عدالت نے مریم نواز کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع شدہ 7 کروڑ روپے واپس کرنے کی ہدایت کی۔
مریم نواز کو نیب نے 8 اگست 2019 کو کوٹ لکھپت جیل سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھیں۔ بعد ازاں، 4 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے انہیں چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس ضمانت کے لیے عدالت نے دو شرائط رکھی تھیں:
- مریم نواز اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گی۔
- بطور سیکیورٹی 7 کروڑ روپے کی رقم رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائی جائے گی۔
اکتوبر 2022 میں عدالت نے مریم نواز کا پاسپورٹ پہلے ہی واپس کر دیا تھا کیونکہ نیب نے مؤقف اپنایا تھا کہ انہیں اب سفری دستاویزات کی ضرورت نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں نیب نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر اپنی درخواست بھی یہ کہہ کر واپس لے لی کہ چونکہ وہ اس کیس میں بری ہو چکی ہیں، اس لیے ضمانت منسوخی کی استدعا اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
سماعت کے بعد مریم نواز کے وکیل جاوید ارشد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر رقم کی واپسی کا حکم دیا ہے۔ تحریری فیصلہ جاری ہونے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر اعوان یہ رقم وصول کریں گے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment