پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور یہ ایک ایسا ناقابلِ شکست رشتہ ہے جس کی دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان دنیا کا پہلا مسلم ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا اور 1951 میں بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
مشکل وقت کا قابلِ اعتماد ساتھی
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین ہر مشکل گھڑی میں، خواہ وہ زلزلے ہوں، سیلاب ہوں یا معاشی چیلنجز، ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ایک ٹھوس چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وژن کے تحت چین نے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ آج چین معاشی اور فوجی طاقت میں کسی سے پیچھے نہیں ہے اور چین کے بغیر دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی۔
وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے چینی سفیر جیانگ زیڈونگ اور بیجنگ قیادت کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے 1 ہزار زرعی گریجویٹس کو جدید تربیت فراہم کی۔ یہ نوجوان اب چین سے تربیت مکمل کر کے واپس آ چکے ہیں اور پاکستان میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرز میں زراعت کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
صدر آصف زرداری کا سی پیک اور گوادر پورٹ پر خراجِ تحسین
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت اور مشترکہ ترقی کے اہداف پر استوار ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی موقف کی مسلسل حمایت کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا اور "ون چائنا پالیسی" کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
صدر زرداری نے سی پیک (CPEC) کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں انقلابی کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر گوادر پورٹ کے منصوبے ملکی ترقی کا محور ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہِ چین کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اب تک 14 بار چین کا دورہ کر چکے ہیں اور اپنے حالیہ دورے میں انہوں نے چیئرمین ماؤ زیڈونگ کی جائے پیدائش کا دورہ بھی کیا۔
اس تاریخی تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے وائس چیئرمین چائی دافینگ سمیت اہم ملکی و غیر ملکی شخصیات نے شرکت کی۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Pak-China Friendship 'Time-Tested and Unbreakable', Says PM Shehbaz on 75th Anniversary
Prime Minister Shehbaz Sharif stated that the friendship between Pakistan and China remains "time-tested and unbreakable" as both nations celebrated the 75th anniversary of establishing diplomatic relations. Speaking at a special ceremony, the PM highlighted that Pakistan is proud to be the first Muslim nation to recognize the People’s Republic of China and among the earliest to establish formal ties in 1951.
A Steadfast Ally in Hard Times
PM Shehbaz emphasized that China has always stood by Pakistan "like a solid rock" through earthquakes, floods, and financial challenges, offering unmatched historical support. He praised President Xi Jinping's vision, noting that under his leadership, China has lifted approximately 800 million people out of poverty and established itself as an indispensable global economic and military power.
The Prime Minister also expressed gratitude to the Chinese leadership for providing modern agricultural training to 1,000 Pakistani graduates, who have now returned to contribute to agricultural research and development centers across Pakistan.
President Zardari on CPEC and Core Interests
President Asif Ali Zardari reiterated that the bilateral relationship is anchored in mutual trust and shared development goals. He appreciated China's consistent stance on the Jammu and Kashmir dispute and reaffirmed Pakistan’s strict adherence to the "One China Policy". President Zardari labeled the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) and the development of Gwadar Port as transformative initiatives for Pakistan's socio-economic progress.
The event concluded with a shared commitment from both leaderships to safeguard core interests and continue robust cooperation in trade, technology, defense, agriculture, and cultural exchanges for regional stability.
Comments
Post a Comment