غزہ فلوٹیلا کے کارکنوں پر تشدد اور تذلیل؛ پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیلی وزیر بن گویر کے خلاف مشترکہ اعلامیہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت آٹھ اہم عرب اور اسلامی ممالک نے مقبوضہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے "عالمی صمود فلوٹیلا" (Global Sumud Flotilla) کے محبوس رضاکاروں کے ساتھ اسرائیلی حراست میں کیے جانے والے غیر انسانی سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مسلم ممالک نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی، اتامار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) کے اقدامات کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور انسانیت کی توہین قرار دیا ہے۔
وزیرِ خارجہ سطح کا مشترکہ اعلامیہ
پاکستان کی وزارتِ خارجہ (MOFA) کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم مشترکہ بیان کے مطابق، آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ—جن میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن اور قطر شامل ہیں—نے اتامار بن گویر کی جانب سے حراست میں لیے گئے بین الاقوامی امدادی کارکنوں کی عوامی سطح پر تذلیل کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر کا یہ رویہ بین الاقوامی انسانی قوانین (IHL) اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مکمل منافی ہے۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب انتہا پسند اسرائیلی وزیر بن گویر نے سوشل میڈیا پر ایک تضحیک آمیز ویڈیو پوسٹ کی، جس میں بین الاقوامی امدادی رضاکاروں کے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہیں گھٹنوں کے بل زمین پر سر رکھ کر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں بن گویر کو اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے ان غیر ملکی رضاکاروں کا تمسخر اڑاتے اور ہراساں کرتے دیکھا گیا۔
عالمی صمود فلوٹیلا اور رضاکاروں پر تشدد
یاد رہے کہ اس امدادی قافلے (فلوٹیلا) میں 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 428 سے زائد فلاحی کارکن شامل تھے، جو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت امداد لے کر جا رہے تھے۔ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی سمندری حدود میں کارروائی کرتے ہوئے ان بحری جہازوں کو قبضے میں لے کر رضاکاروں کو حراست میں لیا تھا۔ رہا ہونے والے کئی رضاکاروں، جن میں پاکستانی معروف فلاحی شخصیت سعد ادھی بھی شامل تھے، نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی قید خانوں میں انہیں بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
احتساب اور عالمی برادری سے مطالبہ
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہا پسند اسرائیلی قیادت کے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کا فوری نوٹس لیں اور اتامار بن گویر کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ ایسے متعصبانہ اور پرتشدد اقدامات خطے میں نفرت اور انتہا پسندی کو مزید فروغ دیتے ہیں، جس سے دو ریاستی حل (Two-State Solution) کے تحت دیرپا امن قائم کرنے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری جانب، فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی اسرائیلی وزیر کی اس حرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان اور اتحادی مسلم ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے اور بین الاقوامی سطح پر قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

Comments
Post a Comment