وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) کے نظام اور افسران کی سنگین بدعنوانی اور نااہلی کا پردہ چاک کر دیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع نے لیسکو حکام کے رویے اور غریب صارفین سے سرعام لوٹ مار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کو معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
80 ہزار روپے لے کر رسید دینے سے انکار
ایوانِ وقت میں احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ لیسکو کی حدود میں ایک غریب بستی کا بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہو گیا۔ لیسکو کے عملے نے اس ٹرانسفارمر کو اتارنے اور اسے ورکشاپ لے جا کر مرمت کرنے کے عوض غریب عوام سے 80 ہزار روپے بٹور لیے۔ جب شہریوں نے اس بھاری رقم کی سرکاری رسید مانگی، تو لیسکو حکام نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اس کام کی کوئی رسید نہیں دی جائے گی۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ یہ بستی غریب دیہاڑی دار مزدوروں پر مشتمل ہے جنہوں نے چندہ اکٹھا کر کے لیسکو افسران کی جیبیں بھریں تاکہ ان کے گھروں کی بجلی بحال ہو سکے۔ یہ سراسر ظلم اور سرعام ڈکیتی ہے۔
وزیرِ دفاع کا وفاقی وزیرِ توانائی سے ایکشن لینے کا مطالبہ
خواجہ آصف نے لیسکو کے اس رویے کو مافیا سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزراء اور عوامی نمائندوں کے سامنے لیسکو کا یہ حال ہے، تو عام آدمی کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے ہوں گے؟ انہوں نے وزیرِ توانائی اویس لغاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بدعنوانی میں ملوث لیسکو کے متعلقہ ایس ڈی او (SDO) اور ایکسیئن (XEN) کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور غریب عوام سے لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے۔
قومی اسمبلی میں اس ہنگامہ خیز انکشاف کے بعد لیسکو کے اعلیٰ حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے بجلی کمپنیوں کے ایسے کرپٹ عملے کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

Comments
Post a Comment