وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں 1.2 ٹریلین روپے سے زائد کی رقم اکٹھی کر لی ہے۔ یہ رقم مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ سالانہ ہدف (1.468 ٹریلین روپے) کا تقریباً 82 فیصد بنتی ہے۔
وصولی کے ماہانہ اعداد و شمار:
سرکاری دستاویزات کے مطابق، پٹرولیم لیوی کی وصولی میں ہر ماہ اضافہ دیکھا گیا:
دسمبر 2025: سب سے زیادہ وصولی (162 ارب روپے) ہوئی۔
جولائی تا نومبر: اوسطاً 111 سے 157 ارب روپے ماہانہ جمع کیے گئے۔
مارچ 2026: 137 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔
اضافے کی وجوہات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی میں اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط ہیں، جس کے تحت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اپریل میں پٹرول پر لیوی کی شرح ریکارڈ 160 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جسے بعد میں عوامی دباؤ اور عالمی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث کم کیا گیا۔
عوام پر اثرات:
پٹرولیم لیوی کی اس بھاری وصولی نے ملک میں مہنگائی کی لہر کو برقرار رکھا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے براہِ راست مال برداری (Freight) اور زراعت کی لاگت بڑھی ہے، جس کا بوجھ عام صارف پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ایک نیا 'کلائمیٹ سپورٹ لیوی' بھی متعارف کرایا ہے جس سے اب تک 35 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو حکومت جون کے آخر تک اپنے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ رقم جمع کر لے گی۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment