پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے معافی مانگنے کے مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک سخت اور واضح بیان جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے آفیشل ہینڈل سے قاسم خان سوری کے حوالے سے جاری کردہ بیان کے مطابق، عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس لیے وہ کسی صورت معافی نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسے لیڈر کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا جس نے انسانیت کی خدمت کی ہو۔
9 مئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا معاملہ
عمران خان نے 9 مئی کے واقعات پر اپنا مؤقف دہراتے ہوئے ایک نیا پینترا اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے ان کا بیانیہ بالکل واضح ہے؛ جس کسی نے بھی اس دن کی اصل سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج چوری کی ہے یا اسے غائب کیا ہے، دراصل وہی 9 مئی کے واقعات کا اصل ماسٹر مائنڈ اور ذمہ دار ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا دعوا ہے کہ فوٹیج سامنے آنے سے حقائق عوام کے سامنے آ جائیں گے۔
دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ایسا شخص جس نے انسانیت کی بھرپور خدمت کی ہو اور وہ شخص سابق وزیر اعظم اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان معافی مانگے عمران خان واضح کہہ چکے ہیں کہ میں کچھ غلط نہیں کیا میں معافی نہیں مانگوں گا 9 مئی کے حوالے سے عمران خان… pic.twitter.com/cUnTzXemlx
— PTI (@PTIofficial) May 28, 2026
سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے اس بیان نے ملکی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مقتدر حلقوں کی جانب سے مذاکرات یا ریلیف کو معافی سے مشروط کیے جانے کی خبریں گردش میں تھیں، خان کے اس دوٹوک جواب نے سیاسی تنازع کو مزید طول دے دیا ہے۔
سیاسی جمود اور مستقبل کا منظرنامہ
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کریں اور ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے۔ دوسری جانب، حکومتی ارکان کا مؤقف ہے کہ 9 مئی کے کرداروں کو سزا دیے بغیر ملکی نظم و ضبط قائم نہیں ہو سکتا۔ عمران خان کے تازہ ترین سخت گیر مؤقف کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات کے امکانات مزید دھندلا گئے ہیں، جس سے سیاسی بحران برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
عمران خان کے معافی سے انکار اور سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کرنے والوں پر انگلی اٹھانے کے بعد، اب یہ سیاسی قانونی جنگ ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

Comments
Post a Comment