دھماکے کی تفصیلات اور عینی شاہدین کے بیانات
جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق 7 بج کر 29 منٹ پر جب یہ دھماکہ ہوا، اس وقت کان کے اندر 247 ورکرز ڈیوٹی پر موجود تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد 100 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ سینکڑوں ریسکیو اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔ ہسپتال میں زیرِ علاج ایک زخمی کان کن 'وانگ یونگ' نے میڈیا کو بتایا، "جب یہ واقعہ ہوا تو مجھے کوئی آواز سنائی نہیں دی بلکہ اچانک دھویں کا ایک بڑا بادل اٹھا۔ مجھے گندھک (سلفر) کی بو آئی تو میں نے لوگوں کو بھاگنے کا کہا۔ بھاگتے ہوئے میں نے دیکھا کہ لوگ زہریلی گیس کی وجہ سے گر رہے تھے اور پھر میں خود بھی بے ہوش ہو گیا۔"
سرکاری حکام کے مطابق، ہسپتال میں داخل بیشتر افراد زہریلی گیس کے باعث متاثر ہوئے ہیں، اور کان کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی مقدار مقررہ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کے بہترین علاج اور بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا حکم بھی دیا ہے، جس کے بعد کان کی انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ عہدیداروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات اور ماضی کے حادثات
رپورٹس کے مطابق، یہ کان پہلے ہی سیکیورٹی کے لحاظ سے خطرناک قرار دی جا چکی تھی۔ سال 2024 میں چین کی نیشنل مائن سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے اس کان کو "شدید حفاظتی خطرات" کی فہرست میں شامل کیا تھا، اور اسے چلانے والے گروپ کو 2025 میں دو بار جرمانے بھی کیے گئے تھے۔ صوبہ شانسی چین کی کل کوئلے کی پیداوار کا چوتھائی سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے اور یہاں ماضی میں بھی ایسے حادثات ہوتے رہے ہیں۔ اس سے قبل 2023 میں اندرونی منگولیا کی ایک کان بیٹھنے سے 53 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2009 میں ہیلونگ جیانگ صوبے میں ایک دھماکے کے دوران 100 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
یہ اندوہناک حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کے اہم دورے کیے تھے۔ چین اس وقت دنیا میں کوئلے کا سب سے بڑا صارف ہے، اور یہ حادثہ وہاں مائننگ انڈسٹری میں سیکیورٹی کے گرتے ہوئے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

Comments
Post a Comment