خلیج فارس میں کشیدگی عروج پر: امریکہ کی ایرانی کشتیوں پر بمباری، متحدہ عرب امارات کی آئل تنصیبات پر بڑا حملہ

 

US Navy helicopters striking Iranian fast boats in Strait of Hormuz and fire at Fujairah oil port UAE - Project Freedom.

خلیج فارس اور خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک ترین علاقہ بن چکا ہے۔ پیر کے روز پیش آنے والے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ فوجی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی 'فاسٹ بوٹس' کو نشانہ بنانے کے دعوے اور متحدہ عرب امارات کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے عالمی منڈیوں میں تھر تھلی مچا دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ نے 'پروجیکٹ فریڈم' (Project Freedom) کے تحت ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ صدر کے مطابق، امریکی ہیلی کاپٹروں نے آبنائے ہرمز میں ایران کی سات تیز رفتار جنگی کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ان کی سات چھوٹی کشتیاں، جنہیں وہ فاسٹ بوٹس کہتے ہیں، مار گرائی ہیں۔ ان کے پاس اب یہی کچھ بچا تھا۔"
پروجیکٹ فریڈم دراصل ایک امریکی عسکری مشن ہے جس کا مقصد ان 2,000 بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنا ہے جو فروری سے اس جنگی زون میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں پر تقریباً 20,000 ملاح موجود ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسی مشن کے تحت، شپنگ کمپنی 'مائرسک' (Maersk) کا ایک امریکی پرچم والا جہاز 'الائنس فیئر فیکس' (Alliance Fairfax) کامیابی سے اس بند راستے سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی تحفظ میں یہ ٹرانزٹ مکمل طور پر محفوظ رہا۔
جب امریکہ اپنے جہاز نکال رہا تھا، اسی وقت متحدہ عرب امارات (UAE) کو ایک بڑے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ یو اے ای کی وزارت خارجہ کے مطابق، ان کی سرکاری آئل کمپنی 'ادنوک' (Adnoc) کے ایک بڑے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، جنوبی کوریا نے بھی اطلاع دی کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کھڑے ان کے ایک بحری جہاز میں زوردار دھماکہ ہوا ہے۔
سب سے زیادہ نقصان فجیرہ (Fujairah) کی بندرگاہ پر ہوا، جہاں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، اماراتی فضائی دفاعی نظام (Air Defense) نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کچھ میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جس سے بندرگاہ پر شدید آگ بھڑک اٹھی اور تین افراد زخمی ہوئے۔ ابوظہبی نے ان حملوں کو "خطرناک اشتعال انگیزی" قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب، تہران نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی مشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈ لاک (تعطل) ہے۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔" ایرانی فوج نے امریکی دعوو¿ں کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف ایک امریکی جنگی جہاز کو خبردار کرنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی تھی، جبکہ ان کی کشتیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کی تیل کی سپلائی کا 20 فیصد اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ فروری 2024 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے، تو جواب میں ایران نے اس گزرگاہ کو بلاک کر دیا تھا۔ اگرچہ اپریل میں ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن بحری جہازوں کے لیے یہ راستہ اب بھی ایک موت کا کنواں بنا ہوا ہے۔ امریکہ نے بھی جوابی طور پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس سے خطے میں غذائی اور طبی سامان کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
ان تازہ حملوں کا سب سے پہلا اور بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑا۔ جیسے ہی فجیرہ کی بندرگاہ پر حملے کی خبر پھیلی، عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت 5 فیصد اضافے کے ساتھ 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اسی طرح بند رہی تو دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دوگنا ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ فجیرہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہاں سے ایک پائپ لائن ابوظہبی کے تیل کے کنوو¿ں کو جوڑتی ہے، جو آبنائے ہرمز کے بائی پاس کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ خلیج میں اپنے شراکت داروں کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان حملوں کو غیر منصفانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ عمان کے سرحدی علاقے 'ب±خا' (Bukha) میں بھی ایک رہائشی عمارت پر حملہ ہوا ہے جس میں عام شہری زخمی ہوئے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب سویلین آبادیوں تک پھیل رہی ہے۔
اس تنازع کا ایک اور پہلو وہ 20,000 ملاح ہیں جو مہینوں سے سمندر کے بیچوں بیچ اپنے جہازوں پر محصور ہیں۔ ان کے پاس خوراک اور ادویات کی قلت ہو رہی ہے، اور ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان "بے گناہ راہگیروں" اور ان کے جہازوں کو اس قید سے نجات دلائے۔
مجموعی طور پر، خلیج فارس کی صورتحال ایک بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے 'پروجیکٹ فریڈم' مکمل کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف ایران اپنی سمندری حدود پر کسی بھی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ چھوٹا سا سمندری راستہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے چند دن اس خطے کے مستقبل اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔

Comments