ٹرمپ کا دورہِ چین؛ ایلون مسک اور ٹم کک سمیت امریکی کارپوریٹ دنیا کے بڑے نام صدر کے ہمراہ بیجنگ روانہ


بیجنگ/واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے ہونے والے انتہائی اہم دورہِ چین کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے مطابق امریکی تاریخ کا ایک طاقتور ترین تجارتی وفد صدر کے ہمراہ بیجنگ پہنچ رہا ہے۔ اس وفد میں ٹیکنالوجی، مالیات اور ہوا بازی کی صنعت کے وہ بڑے نام شامل ہیں جن کے فیصلے عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ٹیکنالوجی اور بزنس ٹائیکونز کی کہکشاں:

وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ساتھ کل 17 اعلیٰ سطح کے ایگزیکٹوز چین جا رہے ہیں۔ ان میں ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک، بلیک راک کے لیری فنک اور میٹا کی صدر دینا پاول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ویزا، جے پی مورگن، بوئنگ اور سٹی گروپ کے سربراہان بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔

اینویڈیا کی حیران کن شمولیت:

اس دورے کی سب سے بڑی خبر سیمی کنڈکٹر چپس بنانے والی کمپنی 'اینویڈیا' کے سربراہ جینسن ہوانگ کی اچانک شمولیت ہے۔ ابتدائی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا، تاہم انہیں الاسکا میں صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' پر سوار ہوتے دیکھا گیا۔ اینویڈیا اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان جاری 'چپ وار' (Chip War) کا مرکزی کردار ہے، اور ان کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے یا سخت سودے بازی کا ارادہ رکھتی ہے۔

مائیکرون ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی تنازعات:

وفد میں مائیکرون ٹیکنالوجی کے سی ای او سنجے مہروترا کی شمولیت بھی معنی خیز ہے۔ یاد رہے کہ 2023 میں بیجنگ نے قومی سلامتی کی بنیاد پر مائیکرون چپس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے کمپنی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اب ان کی موجودگی کا مقصد ان رکاوٹوں کو دور کرنا اور امریکی ٹیکنالوجی کے لیے چینی مارکیٹ دوبارہ کھولنا ہے۔

دورے کے سیاسی و معاشی اہداف:

تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہِ چین ہے، جو ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ ایک نازک 'جنگ بندی' کے مرحلے میں ہے۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں درج ذیل معاملات سرفہرست ہوں گے:

ایران جنگ کا خاتمہ: صدر ٹرمپ چین پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ چین ایران سے سستے تیل کا بڑا خریدار ہے، اس لیے اس کا کردار کلیدی ہے۔

تجارتی محصولات (Tariffs): گذشتہ سال اکتوبر میں محصولات پر جو عارضی روک لگی تھی، اسے مستقل معاہدے میں بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔

زرعی اور صنعتی خریداری: ٹرمپ انتظامیہ چین کو اس بات پر آمادہ کرے گی کہ وہ امریکی کسانوں سے سویا بین اور بوئنگ سے طیاروں کی خریداری میں بڑا اضافہ کرے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قدر طاقتور کاروباری وفد کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد چین کو یہ پیغام دینا ہے کہ امریکہ معاشی محاذ پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، لیکن وہ باہمی مفاد کے سودوں کے لیے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments