جبکہ پوری دنیا امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی بھاری قیمت چکا رہی ہے، چند عالمی کارپوریٹ اداروں کے لیے یہ جنگ "سونے کی چڑیا" ثابت ہو رہی ہے۔ ایک طرف عام شہری ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہے، تو دوسری طرف توانائی اور مالیاتی شعبوں کی بڑی مچھلیاں اس انسانی و معاشی بحران سے ریکارڈ منافع سمیٹ رہی ہیں۔
توانائی کے شعبے میں 'منافع کا طوفان' آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے، وہاں پیدا ہونے والے تعطل نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو آگ لگا دی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ یورپی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ برطانوی ادارے بی پی نے سال کے ابتدائی تین ماہ میں اپنی آمدنی کو دوگنا کرتے ہوئے 3.2 ارب ڈالرز تک پہنچا دیا۔ اسی طرح شیل اور فرانسیسی کمپنی ٹوٹل انرجیز نے بھی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اربوں ڈالرز کا اضافی منافع اپنے نام کیا۔
بینکوں اور دفاعی اداروں کی ریکارڈ کمائی مالیاتی میدان میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ جے پی مورگن سمیت وال اسٹریٹ کے چھ بڑے بینکوں نے مجموعی طور پر 47.7 ارب ڈالرز کا منافع ریکارڈ کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ اثاثوں کی تلاش اور بڑے پیمانے پر شیئرز کی خرید و فروخت نے بینکوں کے تجارتی شعبوں کی چاندی کر دی ہے۔
دوسری جانب، اسلحہ ساز کمپنیاں اس جنگ کی سب سے بڑی مستفید بن کر ابھری ہیں۔ میزائل ڈیفنس سسٹم اور ڈرون شکن ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافے نے بی اے ای سسٹمز اور لاک ہیڈ مارٹن جیسے اداروں کے پاس آرڈرز کے انبار لگا دیے ہیں۔ حکومتیں اپنے دفاعی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے ان کمپنیوں کو کھربوں روپے کے ٹھیکے دے رہی ہیں۔
متبادل توانائی: بحران میں امید کی کرن تیل و گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے دنیا کو متبادل توانائی کی طرف تیزی سے راغب کیا ہے۔ برطانیہ میں فروری کے بعد سے شمسی توانائی کے نظام (سولر پینلز) کی فروخت میں 50 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کا یہ مہنگا ہونا الیکٹرک گاڑیوں اور ماحول دوست توانائی کے شعبوں کے لیے ایک بڑا "بوسٹر" ثابت ہو رہا ہے۔

Comments
Post a Comment