ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر اس وقت ایک بڑی سند مل گئی جب امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں پاکستان کے حق میں ایک اہم قرارداد پیش کی گئی۔
امریکی کانگریس کے رکن ال گرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا ہے۔ قرارداد کے متن میں پاکستان کو ایک ’غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث‘ تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کیا اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
امن کے لیے پاکستان کی قربانیاں
قرارداد میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے امن عمل کی کامیابی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔ مذاکرات کی میزبانی اور سفارتی وفود کی آمد و رفت کے دوران پاکستان کو اپنے شہروں کی بندش اور دیگر انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود پاکستان نے علاقائی و عالمی امن کو ترجیح دی۔
جنگ کے ہولناک اثرات
.امریکی ایوان میں پیش کردہ دستاویز میں جنگ کی تباہ کاریوں کے اعداد و شمار بھی بیان کیے گئے ہیں
انسانی بحران: اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اب تک تقریباً 32 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
معاشی بوجھ: اندازوں کے مطابق اس جنگ پر روزانہ ایک ارب ڈالر کے اخراجات آ رہے ہیں، جس نے عالمی ایندھن کی منڈی اور توانائی کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ جنگ کا فوری خاتمہ عالمی مفاد میں ہے اور پاکستان نے اس مقصد کے حصول کے لیے جو تعمیری اور مثبت سفارتی کردار ادا کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ماہرین اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی جیت قرار دے رہے ہیں، جس نے عالمی سطح پر ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔

Comments
Post a Comment