🤝 ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات؛ کیا عالمی تجارتی جنگ ختم ہونے والی ہے؟


بیجنگ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ تقریباً ایک دہائی میں کسی بھی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہِ چین ہے، جو ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔

تجارتی جنگ کا پس منظر اور حالیہ صورتحال

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دنیا بھر سے آنے والی درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کیے تھے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے درمیان محصولات (Tariffs) کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ اگرچہ اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات کے بعد ان محصولات کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، لیکن دونوں جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ اب بھی برقرار ہے۔

مذاکرات کے اہم نکات

تجارتی معاہدے: ٹرمپ کے ساتھ بوئنگ، سٹی گروپ اور کوالکم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان بھی چین جا رہے ہیں، جس کا مقصد چینی فرموں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے سودے کرنا ہے۔

خام مال کا مسئلہ: چین کے پاس اسمارٹ فونز اور لڑاکا طیاروں میں استعمال ہونے والے نایاب معدنیات  کی اجارہ داری ہے، جس کے بغیر امریکی صنعتوں کا چلنا مشکل ہے۔ ٹرمپ اس حوالے سے کوئی مستقل حل چاہیں گے۔

زرعی مصنوعات: امریکہ دباؤ ڈالے گا کہ چین امریکی کسانوں سے سویا بین اور دیگر زرعی اجناس کی خریداری میں اضافہ کرے۔

ایران جنگ کا سایہ

اس ملاقات پر ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔ چین ایران سے تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم اس نے روس سے تیل کی درآمد بڑھا کر خود کو جنگ کے معاشی اثرات سے کافی حد تک بچا رکھا ہے۔ اس کے باوجود، طویل ہوتی ہوئی جنگ چینی سپلائی چین کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں ہی اس جنگ کے خاتمے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ایران کے معاملے پر دونوں کے نظریات میں واضح فرق موجود ہے۔

چین کی مضبوط پوزیشن

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس بار مذاکرات کی میز پر ایک مضبوط پوزیشن کے ساتھ بیٹھ رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے باوجود چین کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور اس نے روبوٹکس اور اپنی جدید چپس بنانے میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے تاکہ مغربی کمپنیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

یہ دورہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا دنیا کی یہ دو بڑی معیشتیں مستقل امن کی طرف بڑھیں گی یا محصولات کی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر لے گی۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف 

Comments