ایک سال گزر گیا : نواز شریف بلوچستان کے مسائل کے حل وعدہ پورا نہ کر سکے


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے گھمبیر مسائل کو حل کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ گذشتہ سال لاہور میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے وفود کے ارکان کے مطابق نواز شریف اس معاملے پر تاحال خاموش دکھائی دیتے ہیں۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور پانچ رکنی کمیٹی

واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ اور اپریل میں میاں نواز شریف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدور سمیت نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں میں نواز شریف سے گزارش کی گئی تھی کہ وہ اپنے سیاسی قد کاٹھ کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے بحران کو حل کرنے میں مدد کریں۔ ملاقات کے بعد ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، مگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کمیٹی کی کوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی۔

نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ لاہور ملاقات کے بعد سے اب تک مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "نواز شریف سے ہمیں بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی وعدہ پورا کیا گیا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔"

سیاسی قیادت سے مداخلت کی اپیل

سینیٹر جان محمد بلیدی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان ہمارا گھر ہے، اس لیے ہم مایوس نہیں ہو سکتے اور کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف ملک کے سینیئر ترین سیاستدانوں میں شامل ہیں اور وہ مختلف بلوچ سیاسی و قبائلی دھڑوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس لیے ان کا متحرک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جلد ہی نواز شریف کو بلوچستان کے حوالے سے ان کے "قومی فریضے" کی یاد دہانی کرائیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار کے سابق صدر میاں محمد رؤف عطا نے بھی ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور سینیئر سیاسی قیادت کو اس میں فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ اس تمام صورتحال پر جب نواز شریف کے پرسنل اسٹاف آفیسر راشد نصراللہ سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زبیر عمر کے پارٹی چھوڑنے کے بعد سے ن لیگ کی قیادت اور میڈیا کے درمیان رابطے کا کوئی باقاعدہ نظام بھی واضح دکھائی نہیں دیتا۔

بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف کی اس معاملے پر مسلسل خاموشی صوبے میں جاری سیاسی بیگانگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Nawaz Yet to Fulfil Balochistan Pledge


Nearly a year after assuring that he would play a proactive role in resolving the ongoing crisis in Balochistan, PML-N supremo Nawaz Sharif remains completely missing from action. Members of delegations from the security-troubled province who met the former premier in Lahore early last year have expressed concern over the persistent silence.

High-Level Meetings and Unfulfilled Promises

Nawaz Sharif had met with the presidents of the Supreme Court Bar Association and Balochistan High Court Bar, followed by a detailed meeting with a National Party delegation led by Abdul Malik Baloch at his Lahore residence. Sharif was urged to leverage his vast political stature to address the province's challenges. Although a five-member committee was formed after these talks, no progress has been reported since.

National Party leader Senator Jan Muhammad Buledi revealed that there has been no communication from the PML-N side since that meeting. "Expectations from Nawaz Sharif were incredibly high, but for reasons beyond our understanding, no action was taken, and frankly, things have taken a turn for the worse," Buledi said.

Calls for Senior Political Intervention

Senator Buledi emphasized that because Balochistan is their home, they cannot afford to give up and will try to remind Sharif of his national obligation soon. Former SCBA President Mian Mohammad Rauf Atta echoed these concerns, stating that the situation in Balochistan is alarming and requires immediate intervention from senior political figures.

When contacted regarding Nawaz Sharif's absence from the ongoing discourse on Balochistan, his personal staff officer did not respond. Analysts note that since the departure of former spokesperson Mohammad Zubair, the formal liaison mechanism between the party leadership and the media has remained weak.

Comments