گوگل کی پیرنٹ کمپنی 'الفابیٹ' کی ملکیتی خودکار کار ساز کمپنی ویمو (Waymo) نے امریکہ میں اپنی ہزاروں کی تعداد میں سیلف ڈرائیونگ کاریں مارکیٹ سے واپس منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک سافٹ ویئر خرابی کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ گاڑیاں سیلابی پانی کا درست اندازہ نہیں لگا پاتیں اور حادثات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
ٹیکساس کا سنسنی خیز حادثہ
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک خط کے مطابق، اس رضاکارانہ ریکال سے تقریباً 3,800 روبوٹیکسیاں متاثر ہوں گی جو کمپنی کا پانچویں اور چھٹی نسل کا خودکار ڈرائیونگ سسٹم استعمال کر رہی ہیں۔ یہ کارروائی 20 اپریل کو ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے، جہاں ایک خالی ویمو کار سیلابی سڑک پر چلی گئی اور تیز لہروں کے باعث ندی میں بہہ گئی۔
اس واقعے کے بعد سان انتونیو میں ویمو کی سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ضروری سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بعد ہی اس شہر میں عوامی سفر دوبارہ شروع کرے گی۔ فی الحال کمپنی نے ایسے علاقوں تک گاڑیوں کی رسائی کو محدود کر دیا ہے جہاں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کی سیکیورٹی پر سوالات
ویمو اس وقت امریکہ کے مختلف بڑے شہروں جیسے سان فرانسسکو، آسٹن اور میامی میں ہفتہ وار 5 لاکھ سے زیادہ سفر فراہم کر رہی ہے اور ستمبر تک لندن میں بھی سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام خودکار سسٹمز کی ایک حد ہوتی ہے جہاں وہ محفوظ طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے ان گاڑیوں کا استعمال بڑھے گا، ایسے مزید تکنیکی مسائل سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
ماضی کے دیگر بڑے تکنیکی مسائل
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ روبوٹیکسیوں کی سیکیورٹی پر سوال اٹھے ہوں۔ دسمبر 2025 میں سان فرانسسکو میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے ویمو ٹیکسیاں سڑکوں پر اچانک رک گئی تھیں جس سے شدید ٹریفک جام ہوا تھا۔ اسی طرح رواں سال اپریل میں چین کے شہر وہان میں 'اپولو گو' (Apollo Go) روبوٹیکسی کے نظام میں خرابی کے باعث سینکڑوں کاریں سڑکوں کے بیچوں بیچ اچانک رک گئی تھیں، جس نے دنیا بھر میں خودکار گاڑیوں کی بھروسہ مندی پر بحث چھیڑ دی ہے۔
ویمو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صارفین کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس سافٹ ویئر بگ کو جلد از جلد دور کرنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment