عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست؛ 'جان کو خطرہ ہے'، بہن کا موقف


 پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے بعد ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ان کی نجی ہسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست کے اہم نکات:

یہ درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر اپیل میں درج ذیل موقف اپنایا گیا ہے:

خون کے لوتھڑے (Blood Clot) کا خطرہ: درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں بصارت کی خرابی (CRVO) کی اصل وجہ خون کا لوتھڑا ہے، جو کسی بھی وقت دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔

نجی ہسپتال میں علاج: استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد کے 'شفاء انٹرنیشنل ہسپتال' منتقل کیا جائے جہاں ان کی مسلسل نگرانی اور تفصیلی معائنہ ممکن ہو سکے۔

ذاتی معالجین تک رسائی: درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف اور دیگر ذاتی معالجین کو عمران خان کے معائنے کی اجازت دی جائے۔

تبعیضی سلوک کا الزام:

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جیل حکام کا رویہ امتیازی ہے۔ ماضی میں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے سیاسی رہنماؤں کو دورانِ حراست بہترین طبی سہولیات دی گئیں، جبکہ عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ایک سرکاری میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جسے پی ٹی آئی نے ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دائر اس نئی اپیل میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments