لندن: برطانیہ کے سیاسی افق پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں جہاں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اپنے ہی ساتھیوں نے ان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے۔ ہوم سیکرٹری سمیت کابینہ کے متعدد وزراء اور 80 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی کے لیے جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔
اگرچہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ حکومت چلانے پر توجہ مرکوز رکھیں گے اور فی الحال قیادت کے انتخاب کا کوئی باقاعدہ عمل شروع نہیں ہوا، لیکن سیاسی ماہرین نے ممکنہ جانشینوں کی فہرست تیار کر لی ہے۔
قیادت کے مضبوط امیدوار کون؟
1. ویس اسٹریٹنگ (Wes Streeting)
موجودہ وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ کو کابینہ کا بہترین ابلاغ کار (Communicator) مانا جاتا ہے۔ انہوں نے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) میں مریضوں کے انتظار کی فہرستوں میں کمی لا کر اپنی کارکردگی ثابت کی ہے۔ اسٹریٹنگ کو پارٹی کے اعتدال پسند اور دائیں بازو کے اراکین کی بھرپور حمایت حاصل ہے، تاہم پارٹی کے بائیں بازو کے ارکان ان کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ان کے مخالف ہو سکتے ہیں۔
2. اینڈی برنہم (Andy Burnham)
عوامی مقبولیت کے لحاظ سے اینڈی برنہم سب سے آگے ہیں۔ "کنگ آف دی نارتھ" کے نام سے مشہور برنہم گزشتہ ایک دہائی سے مانچسٹر کے میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت کی راہ میں واحد بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اس وقت پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں۔ ان کے حامی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں جلد از جلد کسی ضمنی انتخاب کے ذریعے ایوان میں لایا جائے۔ وہ ماضی میں دو بار قیادت کی دوڑ میں حصہ لے چکے ہیں۔
3. اینجلا رینر (Angela Rayner)
سابق نائب وزیراعظم اینجلا رینر بھی اس دوڑ میں ایک طاقتور نام ہیں۔ ٹریڈ یونین سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والی رینر نے ہاؤسنگ سیکرٹری کے طور پر اہم اصلاحات کیں، تاہم گزشتہ سال ٹیکس کے ایک تنازع پر انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ان کی مقبولیت کا مرکز بھی وہی طبقہ ہے جو اینڈی برنہم کا حامی ہے، جس کی وجہ سے بائیں بازو کے ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ہے۔
دیگر ممکنہ نام:
ممکنہ امیدواروں میں ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کا نام بھی گردش کر رہا ہے، لیکن امیگریشن سے متعلق ان کی حالیہ پالیسیوں پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب بعض حلقوں میں سابق لیڈر ایڈ ملی بینڈ کی واپسی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جسے انہوں نے خود مسترد کر دیا ہے۔
موجودہ قوانین کے تحت کیئر اسٹارمر خود بھی دوبارہ قیادت کے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر مقابلہ ہوا تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ برطانیہ کی سیاست میں آنے والا ایک ہفتہ انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف


Comments
Post a Comment