آئی ایم ایف کی قسط اور پاکستانی عوام: ریلیف کی امید یا مہنگائی کا نیا طوفان؟


تحریر : نصراللہ وڑائچ

پاکستان کی معاشی تاریخ میں آئی ایم ایف (IMF) کا نام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ ہر چند ماہ بعد جب قومی خزانہ خالی ہونے لگتا ہے، تو پوری قوم کی نظریں واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس پر جم جاتی ہیں۔ آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، جہاں 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اربوں ڈالرز کا عام آدمی کی زندگی سے بھی کوئی تعلق ہے یا یہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے؟

قسط ملنے کا فوری فائدہ کیا ہوگا؟

تکنیکی طور پر آئی ایم ایف کی قسط ملنے کا سب سے بڑا فائدہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو ہوتا ہے۔ جب اسٹیٹ بینک کے پاس ڈالرز آتے ہیں، تو مارکیٹ میں روپے پر دباؤ کم ہوتا ہے اور ڈالر کی قیمت کو لگام ملتی ہے۔ روپے کے مستحکم ہونے سے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں (کم از کم کاغذ کی حد تک) مزید اضافے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ اس قسط سے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے دیگر اداروں کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے، جس سے ملک کے دیوالیہ (Default) ہونے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔

عام آدمی کے لیے 'کڑوی گولی'

آئی ایم ایف کبھی بھی رقم 'مفت' یا 'بغیر شرائط' کے نہیں دیتا۔ ان کی ہر قسط کے پیچھے سخت شرائط کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے، جن کا بوجھ براہِ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

بجلی اور گیس کی قیمتیں: آئی ایم ایف کا مطالبہ رہتا ہے کہ سبسڈی ختم کی جائے، جس کا نتیجہ بھاری بھرکم بلوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

ٹیکسوں کی بھرمار: نئے ٹیکسز لگنے سے روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

ترقیاتی کاموں میں کمی: حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے اکثر اسکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کے بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔

کیا مہنگائی کم ہوگی؟

سچ تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام معیشت کو "آئی سی یو" سے نکالنے کے لیے تو ہوتا ہے، لیکن یہ مہنگائی کم کرنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قسط ایک 'عارضی سہارا' ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے تو بچا لیتی ہے، لیکن جب تک ہم اپنی برآمدات (Exports) نہیں بڑھائیں گے اور ٹیکس کا نظام درست نہیں کریں گے، تب تک عام آدمی کی جھولی میں خوشحالی نہیں آئے گی۔

1.2 ارب ڈالر کی یہ قسط پاکستان کے لیے ایک "آکسیجن سلنڈر" کی مانند ہے، جو معیشت کی ڈوبتی سانسوں کو بحال رکھے گی۔ تاہم، عوام کے لیے ریلیف تب ہی ممکن ہے جب حکومت اس رقم کو صرف قرض اتارنے کے لیے نہیں بلکہ پیداواری شعبوں میں اصلاحات کے لیے استعمال کرے۔ جب تک ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں نہیں ہوں گی، عام آدمی یہی پوچھتا رہے گا کہ: "ڈالر تو آگئے، لیکن آٹا اور چینی کب سستی ہوگی؟"

Comments