میری خود اعتمادی ڈگری کی نہیں بلکہ والدین کی مرہونِ منت ہے؛ اداکارہ ایمن سلیم کا انکشاف

aymen-saleem-podcast
ڈرامہ "چپکے چپکے" سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی معروف پاکستانی اداکارہ ایمن سلیم نے کہا ہے کہ انسان کو سچی خود اعتمادی کسی تعلیمی ادارے یا آئیوی لیگ (Ivy League) کی ڈگری سے نہیں ملتی، بلکہ یہ والدین کی تربیت اور گھر کے ماحول سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے گھر میں کبھی صنف یا عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا پدرشاہی (Patriarchy) کا سامنا نہیں کیا۔

والد کا کردار اور رائے کی اہمیت

فریحہ الطاف کے مشہور پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے، وارٹن اسکول آف بزنس سے گریجویٹ ایمن سلیم نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے انہیں بچپن ہی سے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی (Agency) دی تھی۔ ایمن کا کہنا تھا، "گھر میں میری آواز ہمیشہ سنی جاتی تھی اور میری رائے کو کبھی بچپنا یا لڑکی ہونے کی وجہ سے مسترد نہیں کیا گیا۔ جب میرے والد گھر پر بڑوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوتے اور میں کچھ کہنا چاہتی، تو وہ سب کو خاموش کروا کر کہتے کہ پہلے میری بیٹی کی بات سنو۔ وہ مجھ سے ہمیشہ ایک بالغ انسان کی طرح پیش آئے۔"

کارپوریٹ لائف سے اداکاری تک کا سفر

ایمن سلیم نے بتایا کہ وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ ٹاپ کرتی تھیں اور پڑھائی میں کافی سنجیدہ تھیں۔ وہ مشہور عالمی ادارے 'مک کینسی' (McKinsey) میں اپنی ملازمت شروع کرنے والی تھیں جب پاکستان میں ایک کزن کی شادی کے دوران ان کی ملاقات خاندانی دوست اور معروف فلم ساز سلطانہ صدیقی سے ہوئی۔ سلطانہ آپا نے ان کی شخصیت کو سراہا اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے کی ترغیب دی۔ ایمن نے بتایا کہ انہوں نے اسے محض ایک بار کا تفریحی تجربہ سمجھ کر شروع کیا تھا، لیکن "چپکے چپکے" ڈرامے کی شاندار کامیابی نے ان کی سوچ بدل دی اور وہ اپنے فیصلوں میں مزید نڈر ہو گئیں۔

والدہ کی کاروباری سفر میں حوصلہ افزائی

اپنی کامیابی کو پورے خاندان کی مشترکہ محنت قرار دیتے ہوئے ایمن نے کہا کہ ہماری ثقافت میں خواتین عموماً خاندان کے لیے اپنے خواب قربان کر دیتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی والدہ کو حوصلہ دیا کہ وہ گھر سے نکل کر کچھ کریں۔ ان کی والدہ نے اب اپنا ایک فیشن برانڈ شروع کر رکھا ہے، جسے وہ کسی تجارتی دباؤ کے بغیر اپنی ذہنی تسکین اور تھراپی کے طور پر چلاتی ہیں۔ ایمن سلیم نے واضح کیا کہ لندن میں شادی کے بعد مقیم ہونے اور بیرون ملک پڑھنے کے باوجود، پاکستان سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہے گا۔

ایمن سلیم کی یہ گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بیٹیوں کو گھر میں عزت اور اعتماد دیا جائے، تو وہ دنیا کے ہر میدان میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکتی ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Aymen Saleem Says Her Confidence Came From Being Heard and Respected at Home


Pakistani actor Aymen Saleem recently opened up about her upbringing, parental support, and her transition into the entertainment industry. The "Chupke Chupke" star reflected on her family environment, stating that true confidence does not merely stem from an Ivy League degree, but rather from how one is treated at home.

The Power of Parental Support and Agency

Speaking on the FWhy Podcast with Frieha Altaf, the Wharton School of Business graduate shared that she never experienced patriarchy at home. "Confidence comes from your parents. Something I got from my dad early on was agency because my voice was always heard," Aymen stated. She recalled how her father would pause conversations with adults to let her speak, treating her like an adult rather than a little kid, ensuring her opinions were never dismissed due to her age or gender.

Transitioning From Corporate Life to Acting

Aymen revealed that she was highly academic and prepared to start a corporate job at McKinsey when she met legendary filmmaker Sultana Siddiqui at a cousin's wedding in Pakistan. Encouraged by Siddiqui to try acting, Aymen initially viewed it as a "one-time fun gig." However, her massive breakthrough in the hit drama serial "Chupke Chupke" changed her career trajectory, making her more fearless in embracing unexpected life paths.

Empowering Her Mother and Staying Connected

Attributing her success to a collective family ecosystem, Aymen also discussed how she pushed her mother to break cultural norms and pursue entrepreneurship. Consequently, her mother launched her own boutique fashion brand as a form of creative therapy. Aymen concluded that despite studying abroad and now living in London after her marriage, her strong connection to Pakistan remains central to her life.

Aymen Saleem's journey highlights the profound impact that a progressive and supportive home environment can have on empowering young women to excel globally.

Comments