ایران کا آبنائے ہرمز سے 'دشمن' کے فوجی جہازوں کا راستہ روکنے کا اعلان

ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی میں اس وقت ایک بڑا موڑ دیکھنے میں آیا ہے جب تہران نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اب عالمی اہمیت کی حامل تجارتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) سے کسی بھی دشمن ملک کے فوجی سازوسامان اور بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران کا سخت ترین موقف

ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری کے حق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے فوجی آلات کو گزرنے کی اجازت دی جنہیں بعد میں ایران ہی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تہران اپنی اس خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دشمن کی فوجی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحرین اور امریکہ اقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف ایک قرارداد لانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس میں ایران پر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

عالمی ثالثی اور سفارتی کوششیں

روس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے اس موقف کی مکمل تائید کی ہے جس میں انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے مابین مستقل اور جامع جنگ بندی پر زور دیا تھا۔ دوسری جانب، علاقائی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے جاری جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور بحران کے مستقل حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی بیڑے کی واپسی اور ایران کا معاشی بحران

اس دوران ویتنام جنگ کے بعد کی طویل ترین فوجی تعیناتی کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ 326 دنوں بعد واپس امریکہ پہنچ گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اس بیڑے کی واپسی کو عارضی جنگ بندی کے اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، مہینوں کی جنگ کے باعث ایران شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں سالانہ مہنگائی 53.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ خوراک کی قیمتوں میں 115 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس مشکل وقت میں قازقستان کی جانب سے ایران کو 30 مال گاڑیوں پر مشتمل امدادی سامان بھیجا گیا ہے جس میں خوراک اور طبی آلات شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ایرانی اعلان نے خطے میں ایک نئی سفارتی اور فوجی جنگ کا آغاز کر دیا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Iran Declares 'Enemy' Military Shipments Blocked from Strait of Hormuz


Iran's First Vice President Mohammad Reza Aref announced on Sunday that Tehran will no longer permit "enemy" military equipment to pass through the strategically vital Strait of Hormuz. Aref stated that while Iran had previously given up its sovereignty rights by allowing military shipments intended to be used against it, it would not tolerate such movements again.

Diplomatic Efforts and Global Responses

Following Iran's bold stance, Russia officially backed China's call for a permanent ceasefire between Washington and Tehran to fully reopen the shipping route. Simultaneously, intensive diplomatic efforts are underway in the Gulf, as Qatar’s Prime Minister and Saudi Arabia's Foreign Minister discussed de-escalation measures and the ongoing US-Iran ceasefire in a crucial phone call.

US Navy Deployment and Iranian Economic Strain

On the military front, the USS Gerald R. Ford aircraft carrier returned to the United States after a historic 326-day deployment in the Middle East, marking the longest US carrier deployment since the Vietnam War. Meanwhile, months of conflict have severely impacted Iran's economy, pushing annual inflation to 53.7% and food prices up by 115%. To alleviate the crisis, Kazakhstan has dispatched 30 wagons of urgent humanitarian and medical aid to the Iranian Red Crescent.

The situation at the Strait of Hormuz remains a critical flashpoint, with the international community watching closely to see if dialogue can replace the looming threat of escalation.

Comments