ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی میں اس وقت ایک بڑا موڑ دیکھنے میں آیا ہے جب تہران نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اب عالمی اہمیت کی حامل تجارتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) سے کسی بھی دشمن ملک کے فوجی سازوسامان اور بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران کا سخت ترین موقف
ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری کے حق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے فوجی آلات کو گزرنے کی اجازت دی جنہیں بعد میں ایران ہی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تہران اپنی اس خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دشمن کی فوجی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحرین اور امریکہ اقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف ایک قرارداد لانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس میں ایران پر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
🔴اولیانوف: حمله دوباره به ایران یعنی آمریکا و اسرائیل درس نگرفتهاند pic.twitter.com/F6SFB8knna
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) May 17, 2026
عالمی ثالثی اور سفارتی کوششیں
روس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے اس موقف کی مکمل تائید کی ہے جس میں انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے مابین مستقل اور جامع جنگ بندی پر زور دیا تھا۔ دوسری جانب، علاقائی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے جاری جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور بحران کے مستقل حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Iran Appoints Qalibaf as Special Representative for China Affairs
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) May 17, 2026
Mohammad Bagher Qalibaf has been appointed as Iran's special representative for China affairs.
A Tasnim news agency reporter learned from informed sources that the appointment took place recently. pic.twitter.com/dN2fRozuZq
امریکی بیڑے کی واپسی اور ایران کا معاشی بحران
اس دوران ویتنام جنگ کے بعد کی طویل ترین فوجی تعیناتی کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ 326 دنوں بعد واپس امریکہ پہنچ گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اس بیڑے کی واپسی کو عارضی جنگ بندی کے اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، مہینوں کی جنگ کے باعث ایران شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں سالانہ مہنگائی 53.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ خوراک کی قیمتوں میں 115 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس مشکل وقت میں قازقستان کی جانب سے ایران کو 30 مال گاڑیوں پر مشتمل امدادی سامان بھیجا گیا ہے جس میں خوراک اور طبی آلات شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ایرانی اعلان نے خطے میں ایک نئی سفارتی اور فوجی جنگ کا آغاز کر دیا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment