جب لوگ مر رہے ہوں تو جشن کیسا؟' مولانا فضل الرحمان کا حکومت سے تلخ سوال


 جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومتی رویے پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر خیبرپختونخوا (K-P) اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور عدم تحفظ کی لہر کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کروائی۔

خطاب کے اہم نکات:

جشن پر اعتراض: مولانا فضل الرحمان نے 'معرکہ حق' (حالیہ پاک بھارت سرحدی کشیدگی میں کامیابی) کے حوالے سے ہونے والے جشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "کیا ہم اس وقت بھی جشن مناتے رہیں گے جب ہمارے لوگ مر رہے ہوں؟" ان کا اشارہ حال ہی میں باجوڑ اور دیگر علاقوں میں ہونے والی شہادتوں کی طرف تھا۔

خونی ماحول میں گفتگو: انہوں نے کہا کہ وہ "خون آلود ماحول" میں بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو صوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں، لیکن قومی مسائل پر ہونے والی بحث کو عوام تک نہیں پہنچایا جا رہا (نشریات پر پابندی کا حوالہ)۔

سیکیورٹی آپریشنز کی ناکامی: مولانا نے طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی آپریشنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشنز نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ایسی بیماری سے تشبیہ دی جو علاج کے باوجود بڑھتی جا رہی ہو۔

آئین کی سزا: جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں اس کی سزا دی جا رہی ہے۔"

اپوزیشن کا اتحاد:

مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے بعد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی سخت موقف اختیار کیا اور عمران خان کی قید اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا۔ دونوں رہنماؤں نے بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کی لابی میں ملاقات بھی کی، جس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف مشترکہ احتجاجی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مولانا کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments